خود ساخته اسلام
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
خود ساختہ اسلام ایک نوجوان طالب علم کے ساتھی نے طالب علم کا تعارف کراتے ہوئے کہا " ان کو طلبہ کی اسلامی تحریک سے بہت دل چسپی ہے۔ وہ طلبہ کی اسلامی سرگرمیوں میں کافی حصہ لیتے ہیں اور آج کل مسلم طلبہ کے ایک تنظیم کے سیکریٹری بھی ہیں۔ اس وقت وہ پانچ ضلع کو کور (Cover) کر رہے ہیں " یہ لیڈروں کی ایک نئی قسم ہے جو مسلمانوں کے درمیان بہت بڑے پیمانے پر پیدا ہو گئی ہے۔ مسلمانوں میں آج کل بے شمار ایسے لیڈر ملیں گے جن میں سے کوئی پانچ ضلع کو کور کر رہا ہو گا کوئی پانچ ریاست کو ، کوئی پانچ ملک کو کور کر رہا ہو گا کوئی پانچ براعظم کو ، حتی کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی خوش قسمتی اس حد کو پہو نچی ہے کہ انھوں نے اپنے لیے ایسے لیڈر پا لیے ہیں جو ساری کائنات کو کور کر رہے ہوں : ہے حقیقت اس کے دیں کی احتساب کائنات مسلمانوں کے درمیان آج کل لیڈروں کی اتنی کثرت ہے کہ جتنے مسلمان ہیں شاید اتنے ہی ان کے درمیان لیڈر بھی ہوں۔ مگر یہ لیڈر سب کے سب وہ ہیں جو " دوسروں " کو کور کر رہے ہیں۔ ان میں کوئی بھی ایسا لیڈر نظر نہیں آتا جو خود اپنے آپ کو کور کر رہا ہو۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں احتساب غیر کی دھوم ہے مگر احتساب خویش ان کے اندر اتنا کمیاب ہے کہ ڈھونڈنے سے بھی کہیں نظر نہیں آتا۔ یہ اسلام جس کی آج کل کے مسلمانوں میں دھوم ہے بلا شبہ وہ اسلام نہیں جس کی تعلیم خدا اور رسول نے دی ہے۔ یہ مسلمانوں کا اپنا بنایا ہوا اسلام ہے جس کا قرآن و حدیث سے کوئی تعلق نہیں ۔ قرآن و حدیث کے مطابق حقیقی مومن وہ ہے جو اپنے آپ کو کور کرے۔ مومن اللہ سے ڈرنے والا ہوتا ہے وہ جہنم کے اندیشہ سے کانپ رہا ہوتا ہے۔ یہی ایمان کی اصل ہے ۔ ایسا ایمان کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی ساری توجہ اپنے آپ پر لگ جاتی ہے۔ اپنے آپ کو حق پر کھڑا کرنا اس کا سب سے بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اور جو لوگ اپنے آپ کو حق پر کھڑا کرنے والے ہوں وہی اپنے باہر بھی حق کو کھڑا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ صرف یہ جانتے ہوں کہ انھیں دوسروں کے خلاف حق کا جھنڈا لے کر کھڑا ہونا ہے وہ صرف دنیا کے فساد میں اضافہ کریں گے وہ دنیا کی تعمیر کرنے والے نہیں بن سکتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader