Urdu book · تصویر ملت

ہمارے مدارس

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

ہمارے مدارس صحابہ ہمیشہ اساسات دین پر متوجہ رہتے تھے۔ مگر بعد کو عباسی خلافت کے زمانہ میں دوسری قوموں کے اثر سے مسلمانوں کا یہ حال ہوا کہ وہ اساسات دین کے بجائے جزئیات دین کو طے کرنے میں الجھ گئے۔ ان کے درمیان عجمی قوموں کے اختلاط سے نئے نئے مسائل پر بحثیں ہونے لگیں۔ یہ بحثیں حقیقۃً ان امور پر نہ تھیں جو قرآن و حدیث میں واضح الفاظ میں بیان کئے گئے ہیں۔ بلکہ زیادہ تر ان پہلوؤں پر تھیں جو لوگوں نے اپنے غیر ضروری قسم کے خوض و تعمق سے خود پیدا کیا تھا۔ فقہ میں جزئیاتی امور پر بحثیں پیدا ہوگئیں اور اعتقادیات میں کلامی موشکافیوں سے پیدا شدہ مسائل لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت جو اسلامی نظام تعلیم بنا اس میں انھیں فقہی اور اعتقادی بحثوں نے سب سے زیادہ جگہ حاصل کرلی۔ حتیٰ کہ خود قرآن و حدیث بھی اب انھیں اختلافی بحثوں کی روشنی میں پڑھائے جانے لگے۔ یہ انداز تعلیم جو ابتداً عباسی دور میں رایج ہوا بعد کو مقدس بن کر اسلامی نظام تعلیم کا لازمی جز بن گیا اور آج بھی وہ کسی نہ کسی طرح اس کا لازمی جز ر ہا ہوا ہے۔ جو چیز صرف اسلام کی تاریخ تھی اس کو اسلام کی حقیقت سمجھ لیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی درس گاہوں سے اس سے بالکل مختلف انسان بن کر نکلنے لگے جو قرآن کو مطلوب تھے۔ قرآن کو اسلامی تعلیم سے ایسے انسان مطلوب تھے جو اللہ سے ڈریں (۱ نما یخشی الله من عبادہ العلماء) اور جو دنیا کے لوگوں کو آنے والے سنت دن سے ہوشیار کریں (ولینذرو ا قومہم اذا رجعو ا الیہم) مگر اب اسلام کے تعلیمی نظام سے ایسے لوگ پیدا ہونے لگے جو جزئیاتی بحثوں کے ماہر ہوں اور اختلافی مسائل میں کمال فن کی داد دے سکیں۔ اس فرق کا مزید شدید تر نقصان یہ ہوا کہ ہمارے مدارس قساوت اور بے حسی کی تربیت گاہ بن گئے۔ اگر آپ خدا کی عظمت کا تذکرہ کریں، اگر آپ جنت اور جہنم کو یاد کریں تو آپ کے اندر خشوع اور تقویٰ کے جذبات ابھریں گے۔ اس کے برعکس اگر آپ ظاہری جزئیات اور لفظی موشکافیوں میں بحث و مباحثہ کریں تو اس سے صرف قساوت کو غض استلے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے مدارس خشوع کے بجائے غفلت اور قساوت کی پیدا وار کا مرکز بن کر رہ گئے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page