Urdu book · تصویر ملت

تنگ نظری

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

تنگ نظری لاروشے فوکالڈ (La Rochefoucauld) کا قول ہے کہ معمولی ذہن کے لوگ عام طور پر ہر اس چیز کو برا کہنے لگتے ہیں جو ان کی چھوٹی قامت سے زیادہ ہو : Mediocre spirits generally condemn every- thing that exceeds their small stature. انسان کی یہ عام کمزوری ہے کہ وہ ہر چیز کو اپنی ذات کے لحاظ سے ناپتا ہے ۔ جو چیز اس کی بڑائی میں اضافہ کرے یا کم از کم اس کی بڑائی کو باقی رکھے اس کا وہ پر جوش طور پر حامی بن جاتا ہے اس کے برعکس جو چیز اس کو اپنی بڑائی کے لیے خطرہ نظر آئے اس کا وہ دشمن بن جاتا ہے ، خواہ وہ بجائے خود کتنی اچھی چیز کیوں نہ ہو ۔ عربی درس گاہوں میں عام طور پر قدیم معقولات کا کورس شامل رہتا ہے۔ یہ گویا معقولات کے نام پر نامعقولات ہے۔ کیوں کہ معقولات کے نام سے یہاں جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں اُن کا حقیقی عقلیات سے کوئی تعلق نہیں۔ عربی مدارس میں معقولات کا نصاب مکمل کرنے کے بعد بھی آدمی اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ آج کی دنیا میں پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان اسلام کو مدلل انداز میں پیش کر سکے ۔ ایک عربی درس گاہ کے انتظامی ارکان نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ اس کے نصاب سے قدیم معقولات کی تمام کتا بیں خارج کر دی جائیں اور جدید علمی معیار کے مطابق معقولات کا نیا نصاب بنایا جائے ۔ تاہم عملاً اس کو اختیار نہ کیا جا سکا۔ کیوں کہ درس گاہ کے شیخ المعقولات نے اس کی زبردست مخالفت کی ۔ اور وہ چوں کہ اس درس گاہ کے انتہائی سینیر استاد تھے ان کی بات لوگوں کو ماننی پڑی ۔ اس مخالفت کا سبب یہ تھا کہ مذکورہ بزرگ صرف قدیم معقولات کے ماہر تھے ۔ وہ جدید معقولات سے بالکل بے خبر تھے ۔ ان کو اندیشہ ہوا کہ درس گاہ میں اگر قدیم معقولات کو ختم کیا گیا تو اس کے بعد ان کی اہمیت ختم ہو جائے گی ۔ اس کے بعد ان کی مثال اس اردو ٹیچر کی ہو جائے گی جو اپنے آپ کو ایک ایسے اسکول میں پائے جہاں ذریعہ تعلیم صرف روسی زبان ہو ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page