لوگ چندہ نہیں دیں گے
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگ چندہ نہیں دیں گے پھلوار ی شریف کے چند نوجوان جلسہ سیرت کا پروگرام بنارہے تھے، ان کا جذبہ یہ بہت کہ پھلوار ی شریف ایک تاریخی بستی ہے، لہٰذا جلسہ بھی تاریخی نوعیت کا ہونا چاہئے۔ ایک اخبار کے ایڈیٹر لکھتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کتنا روپیہ خرچ کروگے، جواب ملاکہ تقریباً پانچ ہزار روپیہ چندہ ہوجائے گا۔ میں نے کہا بلا شبہ ہمارے لیے یہ بات باعث فخر ہے کہ ہم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہیں۔ ان کی محبت ہماری سب سے قیمتی متاع ہے۔ لیکن ان کی یاد کو تازہ رکھنے، ان کے اسوہ حسنہ کو عام کرنے کے لیے جلسہ ہی کیا ضروری ہے، پھلواری شریف میں کوئی اچھی لائبریری نہیں، اتنی رقم سے ایک اچھی لائبریری کی بنیاد ڈالی جاسکتی ہے جس میں سیرت پر اعلیٰ درجہ کا لٹریچر ہو اور اسی لائبریری میں تعلیم بالغاں کا ایک مرکز بھی قائم کیا جاسکتا ہے۔ جلسہ کی تقریر ہوا میں تحلیل ہوجائی گی، لائبریری کا فیض پورے سال بھر لوگوں کو پہونچتارہے گا۔ نوجوان میری بات کے قائل ہو گئے ، تاہم وہ اپنے پروگرام کو بدلنے پر راضی نہیں ہوئے۔ انھوں نے کہا "لیکن لائبریری کے لیے لوگ چندہ نہیں دیں گے، جب کہ میلاد النبی کے جلسہ کے لیے آسانی سے رقم فراہم ہو جائے گی" (رقیب، پٹنہ، ۱۶ جنوری ۱۹۷۸ء) اس واقعہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ لوگ چندہ نہیں دیں گے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ لوگ چونکہ اس کے لیے چندہ نہیں دیں گے اس لیے ہمیں وہی کام کرنا ہے جس میں لوگ چندہ دیں۔ یہ چھوٹا سا واقعہ علامتی طور پر بتلا تا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بربادی کی وجہ کیا ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ جو لوگ مسلمانوں میں کام کرنے کے لیے اٹھتے ہیں وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر انھیں کاموں کی طرف چلے جاتے ہیں جن میں چندہ زیادہ جمع ہوتا ہو، جن میں شہرت زیادہ ملتی ہو، جن میں عوام کی بھیڑ زیادہ اکٹھا ہوتی ہو، جن میں فوراً کے فوراً کے لیڈی حاصل ہوجائے۔ عوام کے اس مزاج کو بدلنے کی واحد صورت یہ ہے کہ ان کے رہنما اپنا مزاج بدلیں ۔ وہ ایسے کاموں میں طاقت لگائیں جن میں ”چندہ“ نہیں ملتا۔ ایک نسل جب اس طرح قربانی دے گی ، اس کے بعد ہی وہ وقت آۓ گا جب کہ اگلی نسل اس کا پھل پاسکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader