جنگ نہیں
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
جنگ نہیں ٹائمز آف انڈیا (۴ دسمبر ۱۹۸۹) میں ایک عالمی جائزہ شروع ہوا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آج دنیا کے سیاسی مدبرین کس انداز میں سوچتے ہیں۔ اس میں بالکل درست طور پر جدید ذہن کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی طاقت یا سماجی تبدیلی کے لیے جنگ کے ہتھیار کا استعمال اب ایک ناممکن چیز بن چکا ہے : War as an instrument of world power or social change is now an impossibility. موجودہ زمانہ میں مختلف ایسے اسباب پیش آئے ہیں جنھوں نے جنگ کے طریقہ کو ایک ناممکن طریقہ بنا دیا ہے۔ آج کوئی قوم جنگ کر کے وہ فائدہ حاصل نہیں کر سکتی جو قدیم زمانہ میں حکراں طبقہ اس سے حاصل کیا کرتا تھا۔ جدید صورت حال نے تمام دنیا میں لوگوں کا ذہن بدل دیا ہے۔ تمام لوگ ٹکراؤ کے بجائے گفت و شنید کے طریقہ کی وکالت کرنے لگے ہیں۔ روس اور امریکہ جن کے پاس سب سے زیادہ جنگی طاقت ہے۔ وہ بھی آپس میں مفاہمت کی باتیں کر رہے ہیں تاکہ ان میں ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔ جدید دنیا میں اب صرف ایک قوم کا استثناء ہے جو آج بھی جنگ میں مشغول ہے۔ جس کے رہنما آج بھی جنگ اور تلوار کی اصطلاحوں میں بول رہے ہیں۔ یہ بدقسمتی سے مسلم قوم ہے۔ مسلمان آج بھی ہر جگہ بے فائدہ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ مسلم رہنما آج بھی جنگی اصطلاحات میں پرشور تقریریں کرنے میں مشغول ہیں ۔ آج انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ مسلمانوں کے اندر بے معنی لڑائی کا مزاج ختم کیا جائے۔ ان کی ذہنی تربیت کے ذریعہ انھیں ایسا بنایا جائے کہ وہ جدید دنیا کو سمجھیں اور تلوار کے بجائے افکار و نظریات کی طاقت سے اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ یہ صورت حال اللہ کی عظیم نعمت ہے جو عین مسلمانوں کے حق میں ہیں۔ اس طرح خدا تاریخ کو اس میدانِ مقابلہ میں لایا ہے جہاں اسلام واضح طور پر فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ مادی طاقت میں کوئی دوسرا اہل اسلام سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر فکر و نظریہ کے معاملہ میں اسلام کو اجارہ داری کی حد تک ناقابلِ تسخیر قوت حاصل ہے۔ ہتھیار کے میدان میں فتح اور شکست دونوں کا امکان ہے۔ مگر فکری مقابلہ کے میدان میں اسلام کی فتح یقین ہے۔ یہاں کوئی اس کے اوپر فتح پانے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader