دین یا قوم پرستی
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
دین یا قوم پرستی دین الگ چیز ہے اور قوم پرستی الگ چیز۔ ایک قول یا عمل جو قوم پرستی کے جذبہ کے تحت کیا جائے وہ بہر حال قوم پرستی ہی رہے گا، اس سے کبھی دینی نتائج بر آمد نہیں ہو سکتے، خواہ بظاہر اس کے لئے دین اور اسلام کے الفاظ کیوں نہ استعمال کئے گئے ہوں ۔ علامہ اقبال نے کہا تھا : پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے یہی بات ہندوستان کے پہلے خلا باز راکیش شرما نے اس وقت کہی جب کہ وہ تین سو کلومیٹر کی بلندی پر خلا میں اڑ رہے تھے ۔ ۵ اپریل ۱۹۸۲ کو ہندوستانی خلا باز اور زمین پر بیٹھے ہوئے حکومت ہند کے ذمہ داروں کے درمیان ایک بات چیت ہوئی۔ اس بات چیت کا ایک حصہ، اخباری رپورٹ (ٹائم آئیڈیا ۱۶ اپریل ۱۹۸۲) کے مطابق یہ تھا : Rakesh Sharma told Air Chief Marshal Dilbagh Singh "For the Indian Air Force, the sky is no longer the limit." The Air Cheif Marshal told Sharma that the Indian Air Force was "very proud" of his achievement. راکیش شرما نے ایر چیف مارشل دلباغ سنگھ سے کہا کہ ہندوستانی ہوائیہ کے لئے آسمان اب حد نہیں ہے۔ اس کے جواب میں ایر چیف مارشل نے شرما سے کہا کہ ہندوستانی ہوائیہ کو اس کامیابی پر بہت زیادہ فخر ہے۔ مندرجہ بالا دونوں جملوں میں کس قدر مشابهت ہے۔ حالاں کہ ان میں سے ایک جملہ " مومن " کی زبان سے نکلا ہے اور دوسرا جملہ " کافر" کی زبان سے ۔ اب چوں کہ مومن کا کلام اور کافر کا کلام دونوں ایک نہیں ہو سکتا، اس لئے ضروری ہے کہ اس یکسانیت کی کوئی دوسری وجہ تلاش کی جائے ۔ اس حیثیت سے جب دونوں کی باتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے کلام میں جو مشابہت ہے اس کا سبب قومی جذبہ کی یکسانیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ پہلے شعر کا تعلق ایمان سے ہے اور نہ دوسرے قول کا تعلق کفر سے ۔ یہ سراسر قومی جذبہ سے نکلے ہوئے کلام ہیں ۔ اقبال چوں کہ مسلم روایات میں پیدا ہوئے اس لئے انھوں نے اپنے قومی جذبہ کا اظہار اسلامی الفاظ میں کیا۔ راکیش شرما کی پرورش وطینیت کے ماحول میں ہوئی اس لئے انھوں نے اپنے قومی جذبہ کے لئے " ہندوستان “ کا لفظ استعمال کیا۔ دونوں میں صرف ظاہر کا فرق ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader