Urdu book · تصویر ملت

قومی مقابلے

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

قومی مقابلے غالباً ۱۹۳۴ء کا واقعہ ہے، ڈی اے وی کالج لاہور میں تاریخ کے استاد لالہ ابلاغ رائے نے ایک مقالہ شائع کیا۔ یہ مقالہ اخبار ٹریبیون میں چھپا۔ اس میں انھوں نے تحقیقات پیش کرتے ہوئے ثابت کیا تھا کہ جنوبی امریکہ کی دریافت کرنے والے ایک ہندو مذہبی رہنما تھے جن کا نام ارجن دیو تھا۔ ارجنٹینا (Argentina) انھیں ارجن دیو کے نام پر ہے جو جنوبی امریکہ کا ایک ساحلی ملک ہے۔ لالہ ابلاغ رائے کا یہ مقالہ شائع ہوا تو مسلمانوں میں کھلبلی شروع ہوئی، مسلمانوں کو نظر آیا کہ ہندوان سے بازی لے گئے ہیں۔ اس کے بعد مولانا ظفر علی خان اٹھے اور انھوں نے مسلمانوں کے جذبات کی تسکین کا سامان فراہم کیا۔ مولانا ظفر علی خان نے اپنے اخبار زمیندار میں ایک مضمون شائع کیا ۔ اس میں انھوں نے ثابت کیا کہ جنوبی امریکہ کی دریافت ایک مسلم درویش حضرت شیخ چلی رحمتہ اللہ علیہ نے کی تھی۔ چنانچہ جنوبی امریکہ کا ایک ملک آج تک انھیں کے نام پر منسوب چلا آرہا ہے۔ اس ملک کا نام چلی (Chile) ہے (ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی، ۱۴ فروری ۱۹۷۷ء) یہ ایک دلچسپ مثال ہے جو بتاتی ہے کہ موجودہ صدی کے نصف اول میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں کس قسم کے قومی مقابلے جاری تھے۔ اس مزاج کا یہ نتیجہ ہوا کہ مسلمان اپنے حقیقی دین کو زندہ کرنے کے بجائے اس کوشش میں لگ گئے کہ وہ ہندو قوم کی ہر چیز کا ایک اسلامی جواب اپنے یہاں فراہم کریں۔ جنم اشٹمی کے جواب میں جشن میلاد، ہولی کے جواب میں شب برات، ہند و مہابھارت کے جواب میں شاہنامہ اسلام، ڈاڈری کے جواب میں جہیز، کریا کرم کے جواب میں میت کی رسوم، حتیٰ کہ بت پرستی کے جواب میں قبر پرستی ، وغیرہ اس قسم کی بے شمار دھوم جو ہمارے یہاں نظر آتی ہے وہ سب اسی جوابی ذہنیت کا نتیجہ ہے۔ اس کوشش میں مسلمانوں نے اپنے قومی فخر کے لئے تو ضرور نئے نئے سامان فراہم کر لئے مگر اصلی اور حقیقی دین سے وہ دن بدن دور ہوتے چلے گئے ۔ ان کا دین حقیقتہً خدا کا دین نہ رہا بلکہ خدا کے دین کا ہندستانی ایڈیشن بن کر رہ گیا۔ قومی رئیس سے پیدا ہونے والا مذہب قومی مذہب ہے نہ کہ خدائی مذہب ۔ ایسے مذہب سے قومی جذبات کو تسکین مل سکتی ہے، مگر وہ خدا کو خوش کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا ۔ خدا اس مذہب کو زندہ کرنے سے خوش ہو گا جو اس نے اتارا ہے نہ کہ اس مذہب سے جو ہم خود اپنے قومی کارخانہ میں ڈھال کر تیار کرلیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page