Urdu book · تصویر ملت

خوش فہمیوں کے باوجود

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

جمہوریت کی قیمت اسرائیل کا ایک دلچسپ واقعہ نظر سے گزرا۔ اس کے اصل الفاظ یہ تھے: Worn out after an interminable meeting, a Tel Aviv company director said with a sigh, “If the children of Israel had been led by a committee instead of by Moses, they’d still be in Egypt.” تل ابیب کی ایک کمپنی کا ڈائریکٹر لاتناہی میٹنگوں سے سخت اکتا چکا تھا۔ اس نے آہ بھرتے ہوئے کہا کہ اگر بنی اسرائیل کی رہنمائی حضرت موسیٰ کے بجائے ایک کمیٹی کر رہی ہوتی تو بنی اسرائیل ابھی تک مصر ہی میں ہوتے (ریڈرز ڈائجسٹ اکتوبر ۱۹۸۴) مجلس اور کمیٹی کی بحثوں کا جن لوگوں کو تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ ان میں کس قدر بے فائدہ باتیں ہوتی ہیں لفظی نکتے، دور کار امکانات، غیر اہم پیش بندیوں پر لوگ اس قدر بحثیں کرتے ہیں کہ الامان والحفیظ ۔ راقم الحروف اس دنیا میں جن چیزوں سے پناہ مانگتا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ خدا اس کو کبھی کسی مجلس یا کمیٹی کا ممبر نہ بنائے۔ کوئی بڑا کام اجتماعی کوشش سے ہوتا ہے۔ اور اجتماعی کوشش میں ہمیشہ بہت سے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صورت کیا ہو۔ اختلاف رائے کو اتحاد عمل کے ساتھ کس طرح مطابق کیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک شخصی اعتماد اور دوسری جمہوریت۔ اول الذکر میں یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی اپنی رائے دیتے ہیں مگر بالآخر مرکزی قائد کی رائے کو تمام لوگ بلا بحث مان لیتے ہیں۔ ثانی الذکر میں یہ ہوتا ہے کہ جو معاملہ پیش آتا ہے اس پر ہر شخص کی الگ الگ رائے لی جاتی ہے اور جس طرف رایوں کی کثرت ہوتی ہے اس کو اختیار کر لیا جاتا ہے۔ بظاہر ثانی الذکر طریقہ خوبصورت معلوم ہوتا ہے ۔ مگر اس طریقہ میں کام کم ہوتا ہے اور بحث مباحثہ زیادہ ۔ اسلام میں درمیان کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ ابتدائی مرکزی قائد کو منتخب کرنے میں عوامی رائے کا پورا لحاظ کیا جاتا ہے مگر جب عوامی رائے سے ایک امیر کا انتخاب ہو جائے تو اس کو اسی طرح مکمل اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں جیسے موجودہ زمانہ میں امریکہ کے صدر کو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page