سیاسی اخلاقیات
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
سیاسی اخلاقیات ۱۹۳۰ میں ہندوستان میں مہاتما گاندھی کی رہنمائی میں ستیہ گرہ کی تحریک شروع ہوئی۔ اس سلسلہ میں جواہر لال نہرو گرفتار کر کے جیل بھیج دیئے گئے۔ ان کی گرفتاری کے بعد ان کی اہلیہ کملا نہرو الہ آباد کانگریس کمیٹی کی صدر مقرر ہوئیں۔ بی۔ ایس۔ پانڈے ان کے سکریٹری تھے۔ مسٹر پانڈے نے اپنی یادداشت میں لکھا ہے کہ کملا نہرو جب سٹی کانگریس کی صدر ہوئیں تو انھوں نے پرجوش طور پر کام کرنا شروع کیا۔ بدیسی کپڑوں کی دکانوں پر پکٹنگ کے لیے انھوں نے نئی نئی خواتین کی بھرتی کی۔ انھیں میں سے ایک لال بہادر شاستری کی اہلیہ للتا شاستری بھی تھیں۔ مسٹر پانڈے لکھتے ہیں کہ جب میں پکٹنگ کے مقام پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ للتا شاستری نے اپنی کلائیاں زخمی کر لی ہیں۔ اور ان کے کپڑوں پر خون کے دھبے ہیں۔ میں سکتے میں آ گیا۔ کملا نہرو نے بڑے فخر کے ساتھ اس نئی شریلی خاتون رضا کار کی بہادری کا قصہ بیان کیا۔ للتا شاستری ایک گاہک سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کر رہی تھیں کہ وہ بدیسی کپڑا نہ خریدے۔ اس پر دکان دار نے برجستہ کہا ”بہن جی! آپ ولایتی کپڑا خریدنے کو منع کر رہی ہیں، مگر آپ نے جو چوڑیاں پہن رکھی ہیں یہ بھی تو ولایتی ہیں“۔ للتا شاستری حیرت سے بولیں ” اچھا ؟“ دکان دار: ”ہاں بہن جی! یہ چوڑیاں ولایتی ہیں!“ للتا جی نے دکان دار کے اس جملہ کو دہرایا۔ پھر دکان دار کے ہاتھ سے آہنی گز لے کر اپنی ساری چوڑیاں توڑ ڈالیں اور ہاتھ جوڑ کر دوبارہ اس خاتون گاہک سے درخواست کی کہ وہ ولایتی کپڑا نہ خریدے اور دکان دار سے کہا کہ وہ ولایتی کپڑا نہ فروخت کریں۔ اس اچانک عمل پر گاہک اور دکان دار گم سم رہ گئے۔ پڑوس کے تمام دکاندار نادم ہو گئے اور اس کے بعد انھوں نے اپنی دکانیں فوراً بند کر دیں۔ (قومی آواز ۶ مئی ۱۹۸۵) ساٹھ سال پہلے کانگریس کارکنوں کا یہ جوش محض ایک سیاسی تحریک کا جوش تھا نہ کہ حق و صداقت کا جوش۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۹۷۲ میں آزادی ملنے کے بعد انھیں کانگریسیوں کی اولادوں کی سب سے بڑی خواہش یہ بن گئی کہ اپنے گھروں کو بدیسی سامانوسے بھر لیں ۔ تحریک اور سیاسی جوش کی یہ قسم مسلم جماعتوں میں بھی بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader