ایران کا سبق
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
ایران کا سبق سابق شاہ ایران محمد رضا پہلوی (۱۹۸۰-۱۹۱۹) کے خلاف آیات اللہ خمینی کی قیادت میں جو تحریک چل رہی تھی، اس کے نتیجہ میں دسمبر ۱۹۷۸ میں شاہ کو ایران چھوڑ دینا پڑا۔ اس کے بعد وہ مختلف ملکوں میں پھرتے رہے ۔ یہاں تک ۲۷ جولائی ۱۹۸۰ کو طاہرہ کے اسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا۔ فروری ۱۹۷۹ میں آیات اللہ خمینی ایک فاتح کی حیثیت سے پیرس سے تہران آئے۔ اس کے بعد انہوں نے ایران میں " اسلامی جمہوریہ" کی بنیاد رکھی۔ الرسالہ کی رائے اول دن سے یہ رہی ہے کہ ایران کا انقلاب اسلامی انقلاب نہیں، وہ صرف منفی نوعیت کا ایک مخالف شاہ انقلاب ہے۔ مگر مسلمان جو موجودہ زمانہ میں خوش فہمیوں میں جینے کے عادی ہو گئے ہیں، انہوں نے اس کو اسلام کی فتح قرار دیا۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے بیان دیا کہ " ایران کا انقلاب خالص اسلامی انقلاب ہے"، شاہ کی حکومت کے خاتمہ کے بعد مولانا مودودی اور جماعت اسلامی پاکستان نے ایران کی نئی قیادت کو مبارکباد کا تار بھیجا۔ یہ تار اور اس کا ایرانی جواب یہاں مقابل کے صفحہ پر درج ہے ۔ مگر جلد ہی کھلا کہ ایران کا انقلاب محض ایک انتقامی انتقامی انقلاب تھا نہ کہ اسلامی انقلاب ۔ چنانچہ حکومت پر قبضہ ملتے ہی خمینی گروپ نے ایران کے شہریوں کو گولی مارنا شروع کیا۔ بے شمار لوگ انتقامی جذبات کی تسکین میں مار ڈالے گئے۔ تاہم مولانا مودودی کی جماعت کے پاس اس کی توجیہہ موجود تھی ۔ یہ سب اسلام دشمن ہیں جو قتل کیے جا رہے ہیں ۔ اس کے بعد ۱۹۸۰ میں ایران اور عراق میں جنگ چھڑ گئی۔ وہ اتنی بڑھی کہ پانچ سال گزرنے پر بھی اس کے خاتمہ کی صورت نظر نہیں آتی۔ اس بربادی اور قتل کو دیکھ کر دنیا بھر کے لوگ چیخ اٹھے۔ اب مولانا مودودی کی جماعت کو اعلان کرنا چاہیے تھا کہ ان کے قائد نے حالات کو سمجھنے میں بھیانک غلطی کی۔ انہوں نے انتقامی ہنگامے کو اسلامی انقلاب سمجھ لیا۔ مگر ان کی خوش قسمتی سے دوبارہ انہیں ایسے الفاظ مل گئے جن کے ذریعہ وہ اپنی غلطی کو دوسرے کے خانہ میں ڈال سکیں ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے جنرل سکریٹری قاضی حسین احمد صاحب نے اپنے ایک بیان میں کہا: ایران - عراق جنگ عالم اسلام کے خلاف سازش ہے۔ اس جنگ میں عالم اسلام کے وسائل تباہ ہو رہے ہیں ۔ (روزنامہ وفاق لاہور، ۹ جون ۱۹۸۵) لوگ جھوٹے الفاظ میں جیتے ہیں۔ حالاں کہ مومن وہ ہے جو حقائق میں جینے لگے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader