Urdu book · تصویر ملت

کمینہ پن

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

کمینہ پن ایک اعلیٰ سرکاری افسر کو اپنے ماتحت ملازم سے ضد ہوگئی۔ ملازم کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ خود دار قسم کا آدمی تھا اور افسر صاحب کی متکبرانہ نفسیات کو غذا نہیں فراہم کرتا تھا۔ وہ اس کو ملازمت سے تو نہیں نکال سکتے تھے۔ البتہ انہوں نے کوشش کی کہ اس کو کسی قسم کی ترقی نہ ملنے پائے۔ جہاں کہیں دیکھتے کہ اس کے لئے ترقی اور کامیابی کی کوئی صورت پیدا ہو رہی ہے وہ فوراً اس کے خلاف رکاوٹ بن کر کھڑے ہو جاتے۔ اس کو پروموشن کا موقع ملاجس سے اس کی تنخواہ میں تقریباً پانچ سو روپیہ مہینہ کا اضافہ ہو جاتا مگر انہوں نے زبر دست سرگرمی دکھا کر اس کا پروموشن رکوا دیا۔ اس ظلم کے باوجود افسر صاحب کی اپنی کوئی بات نہیں بگڑی۔ محکمہ کے بڑے بڑے لوگوں سے انھیں قدر دانی ملتی رہی۔ ان کے عہدہ اور مرتبہ میں اضافہ ہوتا رہا۔ عالمی کانفرنسوں میں وہ اپنے محکمہ کی نمائندگی کے لئے بھیجے جاتے رہے وغیرہ " اگر میں غلطی پر ہوتا تو مجھے یہ کا میا بیاں کیسے ملتیں" انھوں نے سوچا۔ ماتحت لازم کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کے باوجود چوں کہ ان کی اپنی کوئی بات نہیں بگڑی تھی اس لئے وہ یہی سمجھتے رہے کہ میں صحیح ہوں میرے اوپر خدا کا فضل ہو رہا ہے۔ مگر اس کی وجہ خدا کا فضل نہیں بلکہ صرف ان کا تضاد تھا۔ وہ اپنے ماتحت کے لئے کچھ تھے اور اپنے افسر کے لئے کچھ۔ اپنے ماتحت ملازم سے انھیں چوں کہ کسی نقصان کا اندیشہ نہیں تھا اس لئے اس کے مقابلہ میں تو وہ شیر بنے رہتے۔ مگر اوپر کے وہ لوگ جن سے خود ان کی قسمت وابستہ تھی ان کے آگے وہ اس طرح بچھ جاتے جیسے کہ وہ نرمی اور تواضع کے سوا کچھ اور جانتے ہی نہیں۔ یہی وہ کردار ہے جس کا نام کمینہ پن ہے۔ اور کمینہ پن بے کرداری کی بد ترین قسم ہے۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں کہ اپنے نیچے والوں کے لئے شیر بنے رہتے ہیں اور اپنے اوپر والوں کے لئے گیڈڑ، وہ ایسا کر کے صرف اپنی پستی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ وہ کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ کیوں کہ انسان کو کیا ملے اور کیا نہ ملے ، اس کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ اور خدا کے اوپر کسی کو اختیار نہیں۔ مزید یہ کہ دوسرے کے خلاف کیا ہوا عمل خود اپنے خلاف عمل ہے۔ اپنی بارگاہ میں دوسرے کو ڈسکر ڈیڈ کرنے والا آدمی خدا کی بارگاہ میں اپنے آپ کو ڈسکر ڈیڈ کر رہا ہوتا ہے۔ ایسا ہر سلوک خود اپنے ساتھ بدسلوکی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ خواہ اس کا ظہور موجودہ دنیا میں ہو یا بعد کو آنے والی دنیا میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page