Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو دین ہم کو ملا ہے، اس میں بعد کا یہ اضافہ موجود تھا یا موجود نہیں تھا۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ذکرِ بالجہر جیسی چیزیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوڑے ہوئے دین میں موجود نہیں، اور جب وہ رسول اللہ کے چھوڑے ہوئے دین میں موجود نہیں ہیں، تو فی اور لام جیسے نکتوں کے ذریعے اس کو دینِ محمدی میں شامل کرنا، صرف ایک مبتدعانہ جسارت ہے۔ اس قسم کا نکتہ ایسے اضافوں کے لیے کوئی قابلِ قبول وجہ جواز نہیں۔ علماء کا اتفاقی مسلک ہے کہ ؀ عبادت میں قیاس نہیں (لا قياس في العبادات )، یعنی تعبدی امور میں صرف تقلید ہے، اس میں کوئی اجتہاد نہیں۔ تعبدی امور میں کوئی استدلال صرف صریح نص پر قائم ہوسکتا ہے، اُس کو لفظی نکتوں کی بنیاد پر قائم نہیں کیا جاسکتا۔ تعبدی امور میں لفظی نکتوں کی بنیاد پر اجتہاد کرنا عقلی اعتبار سے غیرعلمی ہے اور دینی اعتبار سے ناقابلِ قبول جسارت۔ تزکیہ ہر وقت عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تزکیہ کا ایک وقتی کورس ہے، یا کچھ اذکار و اوراد ہیں جن کو متعین اوقات میں پڑھ لیا جائے، مگر یہ تزکیہ کا رسمی یا غیر فطری طریقہ ہے اور کوئی بھی چیز اس طرح کے وقتی طریقوں کے ذریعے حاصل نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح آدمی ہر وقت سانس لیتا ہے، سانس لینے کا کوئی وقتی طریقہ نہیں، اسی طرح تزکیہ بھی ایک مسلسل عمل ہے۔ حقیقی تزکیہ صرف وہی ہے جو ہر وقت جاری رہے۔ مثال کے طور پر ایک فارسی شاعر کا شعر ہے کہ ؀ مجھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page