تزکیہ: روحانی خوراک
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
تزکیہ وہ نعمت ہے جو کسی انسان کو براہِ راست خدا سے ملتی ہے۔ کسی انسان کے واسطے سے جو تزکیہ ملے، وہ کچھ اور ہو سکتا ہے، لیکن وہ تزکیہ نہیں ہو سکتا۔ عبادت میں اجتہاد نہیں ایک عالم ایک مشہور صوفی بزرگ کی خانقاہ میں گئے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ لوگ ذکر بالجہر اور دوسرے صوفیانہ اعمال میں مشغول ہیں۔ مذکورہ عالم نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے: مَن أحدث في أمرنا هذا مالیس منہ فھو رد (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 2697) یعنی جو شخص ہمارے دین میں کوئی نئی بات نکالے، جو اس میں نہ ہو، تو وہ قابلِ رد ہے۔ عالم نے کہا کہ یہ صوفیانہ اعمال جو آپ کے یہاں رائج ہیں، وہ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں نہیں تھے، اس لیے وہ احداث (innovation) کا درجہ رکھتے ہیں۔ مذکورہ بزرگ نے جواب دیا کہ حدیث میں ”إحداث فی الأمر“ (دین میں بدعت) کی ممانعت ہے، اُس میں ”إحداث للأمر“ (دین کے لیے بدعت) کی ممانعت نہیں ہے اور تصوف کے یہ طریقے احداث للامر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مذکورہ حدیثِ رسول کی یہ توجیہہ غیر علمی توجیہہ ہے، وہ حدیث کے الفاظ سے ہرگز نہیں نکلتی۔ حدیث میں یہ لفظ آیا ہے کہ: ما لیس منہ (جو اس میں نہ ہو)، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دین چھوڑا ہے، اُس دین میں وہ موجود نہ ہو۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ فی یا لام کے صلہ (preposition) کا نہیں ہے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader