Urdu book · تزکیہ نفس

رہنما کی ضرورت

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

کی ایک عملی شرط بھی ہے، اور وہ ہے اپنے زمانے کے کسی رہنما یا مرشد کو تلاش کرنا اور اس کے علم اور اس کے تجربے سے فائدہ اٹھانا۔ آدمی کو جب کوئی مرشد مل جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ بلا شرط اس کو اپنا مرشد بنالے۔ مرشد کو مشروط طور پر ماننا تزکیہ کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے، نہ کہ مددگار۔ جب ایک شخص یہ کہے کہ میں نے فلاں انسان کو اپنا غیر مشروط رہنما مان لیا، تو اس کا مطلب اندھا مقلد بننا نہیں ہوتا، اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ شعوری ارتقا کے نتیجے میں دو انسانوں کا ویولینتھ (wavelength) ایک ہوگیا۔ یہ ذہنی ہم آہنگی کا واقعہ ہے، نہ کہ ذہنی تقلید کا واقعہ۔ اصل یہ ہے کہ حقیقتِ نفس الامری میں تعدّد نہیں ہوتا، اس لیے جب دو انسان اصل حقیقت تک پہنچ جائیں تو فطری طور پر ان کے درمیان ذہنی ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے فکری توأم (intellectual twin) بن جاتے ہیں۔ تزکیہ کے لیے رہنما یا مرشد لازمی طور پر ضروری ہے، لیکن مرشد کی اہمیت عملی ہے، نہ کہ اعتقادی۔ مرشد کی اہمیت دراصل ایک عمومی سنت اللہ کے تحت ہے۔ اس سنت اللہ کو سورۃ الزخرف کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: ورفعنا بعضہم فوق بعض درجات، لیتخذ بعضہم بعضاً سخرياً (43: 32) یعنی ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی یہ سنت نہیں ہے کہ وہ ہر شخص کو قائدانہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page