تزکیہ نفس
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو جائے گی جس کو اسلام میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ مگر مبنی بر قلب (heart-based) تزکیہ کا یہ تصور قرآن سے ماخوذ نہ تھا، بلکہ اس کا ماخوذ تاریخ تھا۔ قدیم زمانے سے چوں کہ مبنی بر قلب روحانیت (heart-based spirituality) کا تصور لوگوں کے درمیان چلا آرہا تھا، اس کے زیر اثر مضافات (9:30 کے طور پر لوگوں نے اس کو اسلام میں داخل کر دیا۔ جدید سائنس نے وہ علمی بنیاد فراہم کردی ہے جس کے تحت اسلامی تزکیہ کو دوبارہ مبنی بر دماغ تزکیہ کے طور پر زندہ کیا جائے۔ جدید تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان کا قلب خون کی گردش (circulation of blood) کے لیے صرف ایک پمپ (pump) کا کام کرتا ہے، قلب کے اندر سوچنے کی صلاحیت موجود نہیں۔ سوچنے کی صلاحیت تمام تر صرف دماغ میں ہے۔ انسان کی زندگی کے تمام افعال سوچنے کے ذریعہ وجود میں آتے ہیں۔ تزکیہ کا معاملہ کوئی مستثنیٰ معاملہ نہیں۔ تزکیہ کا مقصد بھی دماغ کی سطح پر سوچنے کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ قلب پر مفروضہ تو جہ دینے سے۔ قلب پر توجہ دینا، اتنا ہی زیادہ بے بنیاد ہے، جتنا کہ حصول تزکیہ کے لیے ناخن یا بال پر توجہ دینا۔ رہنما کی ضرورت تزکیہ کا ذریعہ اصولا یہ ہے کہ آدمی قرآن میں غور کرے، وہ حدیث کا مطالعہ کرے، وہ اصحاب رسول کی زندگیوں سے رہنمائی حاصل کرے ۔ یہ تزکیہ کا اصولی ماخذ ہے۔ اس کی یہ حیثیت ابدی طور پر باقی رہے گی۔ اس کے علاوہ، تزکیہ کے حصول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader