تزکیہ نفس
Urdu book, p. 1
By Maulana Wahiduddin Khan
تزکیہ اسلام میں قرآن میں پیغمبر کے چار کام بتائے گئے ہیں، اُن میں سے ایک کام تزکیہ نفس ہے (129 :2)۔ اس سے تزکیہ کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ اہل ایمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ تزکیہ نفس کو اپنی زندگی میں خصوصی حیثیت دیں۔ اسی طرح داعی اور مصلح کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی جدوجہد میں تزکیہ کے عمل کو خصوصی اہمیت کے ساتھ شامل کرے۔ تزکیہ کے معنی تطہیر (purification) کے ہیں، یعنی پاک کرنا، نفس کی ترغیبات اور شیطان کے وساوس سے اپنے آپ کو بچانا، لوگوں کی طرف سے پیش آنے والے ناخوش گوار تجربات کے موقع پر اپنے آپ کو منفی ردعمل سے محفوظ رکھنا، اُن محرکات سے غیر متاثرہ کر زندگی گزارنا جو آدمی کو صراط مستقیم سے ہٹانے والے ہیں، وغیرہ۔ اصل یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالی نے صحیح فطرت پر پیدا کیا ہے، مگر دنیا کی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ مختلف خارجی اسباب کے تحت اس صحیح فطرت پر پردہ پڑ جاتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ایسے خارجی اثرات کو پہچانے اور اپنے آپ کو مسلسل طور پر اُس سے بچاتا رہے۔ پیغمبر کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اس تزکیہ کے اصول سے باخبر کرے، وہ اس اعتبار سے مسلسل طور پر لوگوں کی رہنمائی کرے ۔ اسی کے ساتھ وہ اس پہلو سے لوگوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader