Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ کی حقیقت

Urdu book, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لیے ایک عملی نمونہ بن جائے۔ پیغمبر نے تزکیہ کے اس کام کو اپنے معاصرین کے درمیان براہِ راست طور پر انجام دیا۔ بعد کی نسلوں کے لیے پیغمبر کا یہ کام بالواسطہ انداز میں جاری ہے۔ پیغمبر کے قول و عمل کا مکمل ریکارڈ حدیث اور سیرت کی کتابوں نیز آثارِ صحابہ میں موجود ہے۔ بعد کے لوگوں کا کام یہ ہے کہ وہ اس تحریری ریکارڈ کو پڑھ کر اُس سے رہنمائی حاصل کریں۔ جو لوگ خود مطالعہ کر سکتے ہیں، وہ براہ راست طور پر اس کا مطالعہ کریں اور جو لوگ خود مطالعہ نہیں کر سکتے، اُن کو مصلحینِ امت نصیحت اور تلقین کے ذریعے تزکیہ کے اس کورس کو اپنی زندگی میں اختیار کرنے کی ترغیب دیتے رہیں۔ تزکیہ کی حقیقت پیغمبر کے فرائض میں سے ایک فریضہ وہ ہے جس کے لیے قرآن میں تزکیہ (129 : 2) کا لفظ آیا ہے۔ ہر مومن کی یہ لازمی ضرورت ہے کہ وہ اپنا تزکیہ کرے۔ تزکیہ کے بغیر وہ اعلیٰ شخصیت نہیں بنتی جس کو قرآن میں ربانی شخصیت (79 : 3) کہا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ ہی کسی انسان کے لیے جنت میں داخلے کا ذریعہ بنے گا (76 : 20)۔ تزکیہ کا لفظی مطلب نمو یا افزائش (growth) ہے۔ اِس نمو کی ایک مادی مثال درخت ہے۔ درخت ایک بیج کی نمو پذیری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایک بیج موافق ماحول پا کر بڑھنا شروع ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک ہرا بھرا درخت بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ انسانی تزکیہ کا بھی ہے۔ اس اعتبار سے، تزکیہ کوروحانی ارتقا یا ذہنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page