تزکیہ نفس
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی بھی وسیلہ ہرگز مددگار نہیں ہوسکتا۔ تزکیہ یا تو براہِ راست تعلق باللہ کے ذریعے ملتا ہے، یا وہ سرے سے نہیں ملتا۔ حقیقت یہ ہے کہ واسطہ کا تصور تزکیہ کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ خدا جب انسان سے حبل الورید ((16: 50 سے بھی زیادہ قریب ہے تو اس سے قریب ہونے کے لیے کسی واسطے کی کیا ضرورت ــــ واسطہ یا وسیلہ کا تصور پراسرار نسبت کے عقیدہ پر قائم ہے، جب کہ رہنما یا مرشد کا تصور شعوری تعلق کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ تزکیہ سے پہلے تزکیہ کا اصل محرک احتیاج (destitution) ہے۔ جو آدمی جتنا زیادہ اپنے احتیاج کو جانے گا، اتنا ہی زیادہ وہ تزکیہ کی طرف راغب ہوگا۔ ایسا انسان فطری طور پر اپنے احتیاج کی تکمیل کرے گا، اور اسی تلاش کے نتیجے کا نام تزکیہ ہے۔ اس دریافت کا آغاز خود اپنے وجود سے ہوتا ہے۔ سب سے پہلے انسان شعوری طور پر خود اپنی موجودگی (existence) کو دریافت کرتا ہے۔ یہ دریافت اس کے اندر یہ تجسس (curiosity) پیدا کرتی ہے کہ مجھ کو وجود بخشنے والا کون ہے۔ اس طرح وہ اپنے خالق کو دریافت کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کے اندر اپنے خالق کے لیے بے پناہ عظمت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ پھر وہ سوچتا ہے کہ میں مکمل طور پر ایک ضرورت مند شخص ہوں۔ میں خود اپنی طاقت سے اپنی کوئی ضرورت پوری نہیں کرسکتا۔ اس کے باوجود میری ضرورت کی تمام چیزیں یہاں پیشگی طور پر موجود ہیں ـــــ زمین، پانی، ہوا، آکسیجن، روشنی، خوراک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader