تزکیہ سے پہلے
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
اور دوسری بے شمار چیزیں جن کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے، وہ سب یہاں ایک طرفہ عطیہ کے طور پر میرے لیے موجود ہیں۔ اس دریافت کے بعد وہ یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ ان تمام عطیات کا مُعطی (giver) کون ہے۔ اس طرح وہ اپنے رب کو دریافت کرتا ہے۔ اس دریافت کے نتیجے میں اس کے اندر اپنے رب سے بے پناہ محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس طرح آدمی کی جستجو اُس کو اس سوال تک پہنچاتی ہے کہ میری منزل (goal) کیا ہے۔ پھر اس کو معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں وہ اپنی مطلوب منزل کو نہیں پا سکتا۔ یہ دریافت اس کو آخر کار جنت کا طالب بنا دیتی ہے، جہاں وہ اپنی منزل کو پالے اور اپنے تمام تقاضوں کی تکمیل کر سکے۔ اسی طرح آدمی جب سوچتا ہے تو وہ دریافت کرتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی کے لیے ایک مستند رہنمائی درکار ہے۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ وہ تمام تر تلاش کے باوجود خود اپنی بنیاد پر اپنے لیے مستند رہنمائی معلوم نہیں کر سکتا۔ اس دریافت کے بعد مزید تجسس اس کو اس حقیقت تک پہنچاتا ہے کہ مستند رہنمائی کا واحد ذریعہ پیغمبر (prophet) ہے۔ اس طرح وہ اپنے دل کی پوری آمادگی کے ساتھ پیغمبر کو اپنا رہنما بنا لیتا ہے۔ ان دریافتوں کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے اندر تواضع (modesty) پیدا ہوتی ہے۔ وہ خالق کی عظمتوں میں جینے لگتا ہے۔ خدا کا تخلیقی نظام اس کے لیے خدا کی مسلسل یاد کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جنت اس کے لیے اس کے سب سے بڑے مطلوب کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ پیغمبر کو وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader