Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

سے وابستہ (relate) کرکے اُس سے ربانی سبق لے سکے۔ تزکیہ کا مواد روزمرہ کے تجربات میں ہوتا ہے۔ روزمرہ کے تجربات کو تزکیہ کی نظر سے دیکھنا سیکھ لیجئے، اِس کے بعد ہر تجربہ اور ہر مشاہدہ آپ کے لیے تزکیہ کا ذریعہ بن جائے گا۔ تزکیہ کا وسیلہ تزکیہ کا وسیلہ کیا ہے۔ روایتی طور پر کچھ چیزوں کو تزکیہ کا وسیلہ سمجھا جاتا ہے— نوافل، تلاوت، مسنون اذکار، مراقبہ، صحبت، بزرگوں کے واقعات، وغیرہ۔ اِس سوچ کا مطلب تزکیہ کو ایک مقرر کورس یا مینول (manual) جیسا معاملہ سمجھنا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ کا کوئی متعین کورس نہیں۔ تزکیہ ایک زندہ واقعہ ہے، اور زندہ عمل ہی کے ذریعے اِس کو حقیقی طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تزکیہ کے مقصد کو حاصل کرنے کا اصل ذریعہ یہ ہے کہ آدمی خدائی باتوں میں تدبر کرے، وہ اپنی سوچ کو متحرک کرے، وہ مسلسل غوروفکر کے ذریعے ہر ظاہر میں اس کے باطن کو دریافت کرے۔ یہی دریافت تزکیہ پسند آدمی کی غذا ہے۔ مثلاً آپ نے ایک چڑیا کو دیکھا۔ چڑیا کو دیکھ کر آپ کو یہ حدیثِ رسول یاد آئی کہ اہل جنت کے دل چڑیا کے مانند ہوں گے (أفئدتهم مثل أفئدة الطير)۔ اِس کے بعد آپ اپنے بارے میں غور کرنے لگے کہ کیا میرا دل بھی چڑیا کے مانند ہے، کیا میں بھی اُسی طرح منفی سوچ سے خالی ہوں جس طرح چڑیا کا دل منفی سوچ سے خالی ہوتا ہے، کیا میں بھی اِس طرح حرص سے پاک ہوں جس طرح چڑیا حرص سے پاک ہوتی، کیا میں بھی اِس طرح بے ضرر (harmless) ہوں جس طرح چڑیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page