Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

راضی نہ ہو۔ اس کا یہ قول ہو کہ ــــ مجھے لازمی طور پر اپناترکیہ کرنا ہے، خواہ مجھے اس کی کوئی بھی عملی یا نفسیاتی قیمت دیناپڑے ۔ تزکیہ کا زیادہ موثر طریقہ تزکیہ کا ایک طریقہ یہ ہے کہ مجرد (abstract) طور پر اس کے کچھ اصول مقرر کردئے جائیں اور اس کو لکھ کر لوگوں کو پڑھنے کے لیے دے دیا جائے ۔ یہ بھی تزکیہ کا ایک طریقہ ہوسکتا ہے، لیکن تزکیہ کا زیادہ موثر طریقہ یہ ہے کہ اس کو کسی پیش آمدہ صورتِ حال سے وابستہ (relate) کر کے بتایا جائے۔ اس دوسرے طریقے کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کے لیے ایک زندہ مربی یا مزکی موجود ہو۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی خود اپنے شعور کو اتنا زیادہ ترقی یافتہ بنائے کہ وہ خود ہی ہر تجربہ اور ہر مشاہدہ میں تزکیہ کا پہلو در یافت کرے اور اس کو اپنے ذہن کا جز و بنالے۔ حضرت ابوذر ایک صحابی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی الہ علیہم وسلم اگر ایک چڑیا کو ہوا میں اپنے پروں سے اڑتے ہوئے دیکھتے تو اس سے آپ ہمیں کوئی معرفت کی یاد دہانی کراتے ۔ (وما یقلب طائر جناحه فى السماء إلا ذكر لنا منه علماً۔ الطبقات لابن سعد، رقم الحدیث: 2354) ۔ یہ پیش آمدہ صورت حال کے حوالے سے تزکیہ کی تعلیم دینے کی ایک مثال ہے۔ تزکیہ کا کوئی مجرد طریقہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی مجرد طریقہ تزکیہ کا موثر ذریعہ نہیں بن سکتا۔ تزکیہ کا موثر طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اتنا زیادہ باشعور بنائے کہ اس کے اندر توسّم (15 : 75) کی صفت پیدا ہوجائے۔ وہ پیش آمدہ واقعات کو تزکیہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page