Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ اِس قسم کی تمام چیزوں سے مکمل طور پر دور رہے۔ تزکیہ کسی انسان کو اعلیٰ انسان بناتا ہے۔ تزکیہ آدمی کو اِس قابل بناتا ہے کہ اِس کو فرشتوں کی صحبت مل جائے۔ تزکیہ کے ذریعہ آدمی اِس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کے پڑوس میں جینے لگے۔ تزکیہ کے بغیر آدمی سوکھی لکڑی کے مانند ہے، تزکیہ کے بعد آدمی ایک شاداب درخت بن جاتا ہے۔ تزکیہ کسی پراسرار چیز کا نام نہیں، وہ وہی چیز ہے جس کو دوسرے الفاظ میں ایمانی شعور کی بیداری کہا جا سکتا ہے۔ تزکیہ اور عصری تقاضا ہر زمانے کا ایک طرزِ فکر ہوتا ہے۔ آدمی کسی بات کو صرف اُس وقت قبول کرتا ہے جب کہ وہ اس کے طرزِ فکر کے مطابق ہو۔ اِسی کو مائنڈ کا ایڈریس ہونا کہتے ہیں۔ انسانی ذہن کی رعایت جس طرح دوسرے معاملات میں ضروری ہے، اُسی طرح وہ تزکیہ کے معاملے میں بھی ضروری ہے۔ قدیم زمانہ روایتی طرزِ فکر کا زمانہ تھا، مگر موجودہ زمانہ سائنسی طرزِ فکر کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں لوگوں کا تزکیہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بات کو اِس طرح کہا جائے جس سے اُن کا ذہن ایڈریس (address) ہو سکے۔ تزکیہ کی اصل موجودہ زمانے میں بھی عین وہی ہے جو کہ قدیم زمانے میں تھی، البتہ دونوں میں ایک فرق ہے اور وہ اسلوبِ کلام اور طرزِ استدلال (reasoning) کا فرق ہے۔ قدیم زمانے میں روایتی اسلوب لوگوں کے لیے مؤثر ہو سکتا تھا، لیکن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page