تزکیہ نفس
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے میں مؤثر تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ اسلوب کلام کو بدلا جائے۔ صرف اسی صورت میں یہ ممکن ہے کہ آج کا انسان تزکیہ کی اہمیت کو سمجھے اور اس کو اپنی زندگی میں اختیار کرے۔ مثال کے طور پر قدیم زمانے میں ’’اصلاح نفس‘‘ کا لفظ بولا جاتا تھا۔ یہ لفظ قدیم روایتی ذہن کو متاثر کرنے کے لیے کافی تھا، لیکن آج کا انسان اس حقیقت کو اُس وقت زیادہ سمجھ پاتا ہے جب کہ اس بات کو بتانے کے لیے لفظ بدل دیا جائے اور یہ کہا جائے کہ ہر انسان مختلف اسباب سے متاثر ذہن (conditioned mind) کا کیس بن جاتا ہے۔ اس کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ اس کی ڈی کنڈیشننگ کی جائے، اس کے ذہن کی تشکیل نو (re-engineering) کر کے اس کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ چیزوں کو اُن کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھے اور زیادہ درست طور پر ان کے بارے میں رائے قائم کرے۔ اس اسلوب تزکیہ پر لوگوں کو مخاطب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مزکّی کا مطالعہ وسیع ہو، وہ قدیم کے ساتھ جدید باتوں سے واقفیت رکھتا ہو ۔ اس کے بغیر مؤثر انداز میں جدید انسان کا تزکیہ نہیں کیا جا سکتا۔ تزکیہ کی شرط تزکیہ کوئی فنّی علم نہیں۔ فنّی علم کو لفظوں میں پوری طرح بیان کیا جا سکتا ہے، لیکن تزکیہ معرفت کا علم ہے اور معرفت کے علم کو الفاظ میں صرف جزئی طور پر بیان کرنا ممکن ہے، نہ کہ کلی طور پر۔ تزکیہ کی ہر تقریر یا تحریر ایک اور اضافہ چاہتی ہے، اور یہ اضافہ صرف وہ شخص کر سکتا ہے جو تزکیہ کا طالب ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader