Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

کرے، نہ کہ متکلم کی نسبت سے۔ جس آدمی کے اندر یہ صفات موجود ہوں، وہی وہ شخص ہے جو تزکیہ کے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اعترافِ حقیقت اعلیٰ انسانیت یہ ہے کہ آدمی حقیقتِ واقعہ کا اعتراف کرے۔ کسی انسان کے لیے اصل چیز یہی ہے۔ اکتشافِ حقیقت (discovery of reality) کا نتیجہ اعتراف (acknowledgement) ہے۔ آدمی اگر حقیقتِ واقعہ سے بے خبر ہو تو وہ ایک جاہل (ignorant) انسان شمار ہوگا۔ حقیقتِ واقعہ کی دریافت کے بعد اگر کسی شخص کا حال یہ ہو کہ وہ اس کو دل کے اندر تو محسوس کرے، لیکن زبان سے بول کر وہ اس کا اعلان نہ کرے تو یہ روش منافقت کی روش ہے۔ اور اگر ایسا ہو کہ حقیقتِ واقعہ کی دریافت کے بعد وہ اس کو اصل ہستی کے بجائے کسی اور سے منسوب کردے، یا وہ خود اس کا کریڈٹ لینے لگے تو ایسا آدمی جھوٹ (falsehood) پر کھڑا ہوا ہے۔ یہ عمل کوئی سادہ عمل نہیں۔ یہ دراصل صحیح رخ پر انسانی شخصیت کا ارتقا ہے اور اسی کا دوسرا نام تزکیہ ہے۔ تزکیہ کسی پر اسرار چیز کا نام نہیں ہے۔ تزکیہ اس شعوری بیداری کا نتیجہ ہے کہ آدمی ہر چیز کو خدا کے خانے میں ڈال سکے، ہر تجربہ اس کے لیے خدا سے تعلق بڑھانے کا ذریعہ بن جائے۔ انھیں تجربات کے دوران وہ اعلیٰ شخصیت بنتی ہے جس کو مزکی شخصیت (purified personality) کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا معاملہ صحیح انتساب (right attribution) اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page