Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

غلط انتساب (wrong attribution) کا معاملہ ہے۔ واقعات کو غلط طور پر کسی سے منسوب کرنا، اپنی روح کو آلودہ کرنا ہے، یہ تزکیہ کے موقع پر اپنے آپ کو تزکیہ سے محروم کر لینا ہے۔ اس کے برعکس، جب آدمی واقعات کو خالق حقیقی کی طرف منسوب کرے تو اُس نے اپنی روح کو اوپر اٹھایا۔ تزکیہ کے موقع کو استعمال کرتے ہوئے اس نے اپنے آپ کو وہ انسان بنایا جس کو تزکیہ یافتہ انسان کہا جاتا ہے۔ تزکیہ کسی خلا میں نہیں ہوتا، تزکیہ ہمیشہ حقیقی زندگی میں ہوتا ہے۔ تزکیہ کے لیے جو چیز مطلوب ہے، وہ بیدار ذہن (awakened mind) ہے، نہ کہ تخلیہ میں کئے ہوئے کسی قسم کے پر اسرار اعمال۔ تزکیہ اور قربانی تزکیہ کا حصول کوئی سادہ بات نہیں۔ تزکیہ کے حصول کے لیے ہمیشہ ایک قربانی درکار ہوتی ہے، جسمانی قربانی نہیں، بلکہ نفسیاتی قربانی۔ وہ قربانی ہے— تزکیہ کے حصول کی خاطر خلافِ تزکیہ باتوں کو مکمل طور پر چھوڑ دینا۔ یہ فطرت کا ایک اصول ہے کہ ایک چیز کو پانے کے لیے دوسری چیز کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہ اصول تزکیہ کے معاملے میں بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ دوسرے معاملات میں۔ اُنھیں میں سے ایک چیز ہے غلط عادتوں (bad habits) کو چھوڑنا۔ ہر عورت اور مرد اپنے ماحول کے اثر سے ایسی چیز کے عادی ہو جاتے ہیں جو تزکیہ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ تزکیہ کے طالب کے لیے لازم ہے کہ وہ ایسی عادتوں کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page