محاسبہ کیسے
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
اور اس قسم کے محاسبہ کے بغیر کسی کا تزکیہ نہیں ہوسکتا۔ انسان کے اندر سب سے زیادہ طاقت ور جذبہ انا(ego) کا جذبہ ہے۔ یہ جذبہ اتنا زیادہ شدید ہے کہ ہر آدمی شعوری یا غیر شعوری طور پر انا ولا غیری(میں، میرے سوا کوئی نہیں) کی نفسیات میں جیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر بہت جلد خود فکری (self-thinking) کی نفسیات پیدا ہوجاتی ہے، یعنی خود پسندی کی نفسیات۔ اس قسم کی نفسیات تزکیہ کی قاتل ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی کے اندر اینٹی سیلف سوچ (anti-self thinking) پیدا ہو۔ وہ اپنے خلاف سوچے اور اپنے خلاف سن سکے۔ عمر بن الخطاب کے اندر یہ جذبہ اتنا زیادہ شدید تھا کہ انھوں نے کہا— خدا اُس انسان پر رحم کرے جو مجھے میرے عیب کا تحفہ بھیجے (رحم اللہ امرء أهدى إلي عيوبي) محاسبہ کا یہ مزاج ایک دریافت سے پیدا ہوتا ہے، اور وہ ہے اپنے عجز (helplessness) کی دریافت۔ تزکیہ کے طالب کو چاہیے کہ وہ دریافت کے درجے میں اِس حقیقت کو جانے کہ اس کا احساس میں (sense of I) صرف احساس کی حد تک محدود ہے۔ اپنے احساس کے باہر کسی بھی چیز پر اس کو کوئی اختیار نہیں— اپنے وجود کو باقی رکھنے پر اس کو کوئی اختیار نہیں، موت کے معاملے میں اس کو کوئی اختیار نہیں، لائف سپورٹ سسٹم (life support system) پر اس کو کوئی اختیار نہیں، آخرت کی عدالت میں اس کو کوئی اختیار نہیں، وغیرہ۔ جب کوئی آدمی اپنی اس کامل بے اختیاری کو دریافت کرتا ہے تو اس کے اندر لازمی طور پر عجز کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اور یہی عجز کا احساس آدمی کو اپنا محاسبہ آپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader