Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنا مالک آپ ہے۔ وہ اپنی تشکیل آپ کرتا ہے۔ انسان اگر خود نہ چاہے تو کوئی دوسرا شخص اس کی شخصیت سازی نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے تزکیہ یا اس کی شخصیت سازی میں تمام تر دخل ذاتی محاسبہ کا ہے۔ مربی یا مزگی کا کام صرف یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر ذاتی محاسبہ کا طاقت و محرک (incentive) کر دے، وہ انسان کے اندر یہ طرزِ فکر پیدا کر دے کہ اگر میں نے اپنا تزکیہ نہ کیا تو میں ہلاک ہو جاؤں گا، اگر میں نے اپنی اصلاح نہ کی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ میں ہمیشہ کے لیے برباد ہو کر رہ جاؤں گا۔ مجھے اپنا تزکیہ خود کرنا ہے اور مجھے جو کچھ کرنا ہے وہ آج کرنا ہے، کیوں کہ کل کبھی آنے والا نہیں۔ انسان کا یہ مزاج ہے کہ وہ اپنی ہر غلطی کی توجیہہ (justification) تلاش کر لیتا ہے، اس کو ہمیشہ اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کے لیے کچھ الفاظ مل جاتے ہیں۔ تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے اس مزاج کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ مگر اس مزاج کا خاتمہ انسان کے خود اپنے اختیار میں ہے، وہ کسی بھی دوسرے شخص کے اختیار میں نہیں۔ محاسبہ کیسے تزکیہ کا اصل ذریعہ ذاتی محاسبہ (self introspection) ہے، یعنی اپنے بارے میں سوچنا، اپنے قول و عمل کا تجزیہ (analysis) کرنا، دوسرے لفظوں میں، محاسبہ یہ ہے کہ آدمی اپنا جج آپ بن جائے، وہ اپنے خلاف سوچے اور اپنے بارے میں انتہائی بے لاگ انداز میں رائے قائم کرے۔ اسی کا نام احتساب یا محاسبہ ہے،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page