تزکیہ نفس
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ اپنے معاملات میں خدا کے ساتھ کا ونسلنگ (counselling) کرنا ہے، اور خدا کے ساتھ کا ونسلنگ کرنے والا کبھی بے راہ نہیں ہوتا۔ خدا اگر اس کو اس کے معاملے میں کوئی خواب دکھادے تو اس کو سمجھنا چاہیے کہ خدا نے اس کے پرچے کو اس کے لیے آؤٹ کردیا ہے، اب اس کے لیے کوئی دوسرا چوائس باقی نہیں رہا ہے۔ جس شخص کو خدا اس حد تک رہنمائی دے دے، اور پھر بھی وہ اس رہنمائی کو قبول نہ کرے تو یہ اس کے لیے اتنا بڑا جرم ہوگا جو کسی بھی حال میں قابلِ معافی نہیں۔ خدا ایسے انسان سے کوئی عذر (excuse) قبول نہیں کرے گا، وہ اس کو ہمیشہ کے لیے اپنی قربت سے محروم کردے گا۔ تزکیہ اور ترکِ دنیا بعد کے زمانہ میں کچھ لوگوں نے تزکیہ کے لیے ترکِ دنیا کا طریقہ اختیار کیا۔ لیکن تزکیہ کے لیے نفسیاتی معنوں میں دنیا سے بے رغبتی مطلوب ہے، نہ کہ عملی معنوں میں دنیا کو چھوڑ دینا۔ دنیا کو چھوڑنے کا نظریہ دراصل غیر داعیانہ ذہن کی پیداوار ہے۔ دنیا میں لازمی طور پر انسان بھی شامل ہیں۔ اس لیے دنیا کو چھوڑنے کا مطلب انسان کو چھوڑنا بھی بن جاتا ہے۔ داعی اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ کسی بھی عذر کی بنا پر انسان کو چھوڑ دے۔ دوسرے لوگ انسان کو کسی اور نظر سے دیکھ سکتے ہیں، لیکن داعی انسان کو مدعو کی نظر سے دیکھتا ہے۔ داعی کی نظر میں ہر انسان مدعو ہے، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ عام ہو یا خاص، خواہ وہ حاکم ہو یا غیر حاکم، حتی کہ بظاہر وہ مخالف اور ظالم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader