Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

کیوں نہ ہو، داعی کی نظر میں ہر ایک صرف انسان ہے۔ داعی کی اولین خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر انسان تک سچائی کا پیغام پہنچائے۔ داعی اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ یہ کہے کہ فلاں شخص ایک دروازے سے آئے گا تو میں دوسرے دروازے سے نکل جاؤں گا۔ وہ یہ کہے گا کہ آنے والا شخص میرے لیے مدعو ہے، اس لیے میں آگے بڑھ کر اس سے ملوں گا اور حکمت کے ساتھ سچائی کا پیغام اس کو پہنچاؤں گا۔ ترک دنیا عملاً ترک مدعو ہے۔ ترک دنیا عملاً ان لوگوں سے دور جانا ہے جو ایک داعی کے لیے مطلوب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک تاجر ہر چیز کو چھوڑ سکتا ہے، لیکن وہ اپنے گاہک (customer) کو نہیں چھوڑ سکتا۔ اس طرح ایک داعی ہر دوسری چیز کو برداشت کر سکتا ہے، لیکن وہ اس کو برداشت نہیں کر سکتا کہ وہ مدعو کو چھوڑ کر کسی الگ تھلگ مقام پر چلا جائے۔ مدعو کے درمیان رہتے ہوئے اگر اس کو کوئی مصیبت پیش آتی ہے، اگر اس کے دامن پر کیچڑ کے دھبے لگ جاتے ہیں، تب بھی وہ کیچڑ کو نظر انداز کرے گا، لیکن وہ مدعو سے بے تعلقی کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ایک مومن کا مطلوب جس طرح تزکیہ ہے، اسی طرح اس کا مطلوب دعوت بھی ہے، اور ایک سچے مومن کے لیے ممکن نہیں کہ وہ تزکیہ کو چھوڑ دے یا وہ دعوت سے دست بردار ہوجائے۔ تزکیہ کا محرک اگر یہ کہا جائے کہ اسلام کا نشانہ (goal) صالح نظام قائم کرنا ہے۔ اس صالح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page