Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ کا محرک

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

نظام کے لیے صالح افراد درکار ہیں۔ تزکیہ کا مقصد یہ ہے کہ ایسے صالح افراد تیار کیے جائیں جو صالح نظام بناسکیں۔ یہ بات کہنے میں بظاہر بے ضرر معلوم ہوتی ہے، لیکن وہ تزکیہ کے پر اسس کے لیے بلاشبہ قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قسم کے تصورِ اسلام کے تحت کبھی تزکیہ کا عمل موثر طور پر جاری نہیں ہوسکتا۔ اس امتحان کی دنیا میں انسان کو ایسے حالات کے درمیان رہنا پڑتا ہے جہاں ہر طرف تزکیہ کے خلاف اسباب موجود ہیں۔ ایسی حالت میں تزکیہ کا عمل جاری کرنے کے لیے نہایت طاقت ور محرک (strong incentive) درکار ہے۔ اور طاقت ور محرک وہی ہو سکتا ہے جس میں سارا فوکس اپنی ذات پر ہو، نہ کہ کسی خارجی نظام پر۔ حقیقی تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ آدمی یہ محسوس کرے کہ تزکیہ کے بغیر وہ ہرگز کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ تزکیہ نہ کرنے کی صورت میں اس کے لیے ابدی محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس قسم کے طاقت ور محرک کے بغیر کبھی کوئی شخص تزکیہ پر کار بند نہیں ہو سکتا۔ حقیقی تزکیہ کے لیے شدید محاسبہ درکار ہوتا ہے اور شدید محاسبہ کبھی کسی خارجی نظام کی نسبت سے پیدا نہیں ہو سکتا۔ اگر میں نے اپنا تزکیہ نہ کیا تو میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ اس قسم کا گہرا محرک کسی شخص کے اندر صرف اُسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جب کہ تزکیہ اس کے لیے ایک انتہائی ذاتی مسئلہ ہو، نہ کہ کوئی خارجی مصلحت یا دُور کی کوئی ضرورت۔ نظام ایک خارجی چیز ہے جس کا تعلق پورے معاشرے سے ہوتا ہے۔ اس قسم کا حوالہ کسی آدمی کے اندر طاقت ور محرک بن کر داخل نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ ہمیشہ اپنی ذات کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page