Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

طرح تو مجھے آخرت میں ہولناک عذاب سے بچا لے۔ اسی طرح اس معاملے کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ اپنی کوتاہیوں کو یاد کر کے اپنے اندر احساسِ خطا کو بیدار کریں۔ کسی معاملے میں اگر آپ محسوس کریں کہ آپ 99 فی صد درست تھے، صرف ایک فی صد آپ غلط تھے، تو ایسے موقع پر آپ یہ کریں کہ 99 فی صد کو بھلا دیں اور ایک فی صد کو اتنا زیادہ بڑھائیں کہ آپ کو محسوس ہو کہ گویا ساری غلطی آپ ہی کی تھی۔ اس طرح آپ کے اندر احساسِ خطا جاگے گا۔ آپ خوفِ خدا سے کانپ اٹھیں گے ، آپ شدتِ انابت کے ساتھ اللہ سے توبہ کی درخواست کرنے لگیں گے۔ تزکیہ کوئی پراسرار چیز نہیں، تزکیہ کا ایک معلوم پراسس ہے، اور وہ ہے بار بار تزکیہ سے تعلق رکھنے والے پہلوؤں پر سوچنا۔ تزکیہ ہمیشہ شعوری بیداری کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ کسی پراسرار کرشمہ کا نتیجہ۔ کوئی شخص جتنا زیادہ اس معاملے میں سوچے گا، اتنا ہی زیادہ اس کا تزکیہ ہوگا۔ تزکیہ پورے معنوں میں ایک شعوری عمل ہے۔ اس شعوری عمل کے بغیر تزکیہ کو پانے کی امید رکھنا صرف ایک خوش خیالی (wishful thinking) ہے جو کبھی واقعہ بننے والی نہیں۔ تزکیہ ذریعہ قربت انسان مخلوق ہے اور خدا اس کا خالق ہے۔ اس لحاظ سے انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق سے آخری حد تک قریب ہو، مگر مختلف چیزیں انسان کو خدا سے دور کر دیتی ہیں۔ مثلاً فخر، منفی سوچ، وغیرہ۔ تزکیہ کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page