Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ ذریعہ قربت

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

اس قسم کے منفی جذبات سے مکمل طور پر پاک کیا جائے ۔ آدمی جیسے ہی اپنے آپ کو اس قسم کے غیر ربانی جذبات سے پاک کرتا ہے، اچانک وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے خالق سے آخری حد تک قریب ہو گیا ہے۔ وہ اپنے آس پاس خدا کی موجودگی (presence of God) کا تجربہ کرنے لگتا ہے۔ خدا سے گہری قربت صرف اُس وقت ہو سکتی ہے جب کہ انسان خدا کو اس کے اعلیٰ ترین اوصاف کے ساتھ دریافت کرے۔ مثلاً ہر انسان دنیا میں رہنے کے لیے بے شمار چیزوں کا محتاج ہے۔ یہ چیزیں اس نے خود نہیں پیدا کی ہیں ، اس کا ایک دینے والا ہے اور وہ دینے والا بلا شبہ خدا ہے۔ خدا ہی وہ ہستی ہے جو اس کا واحد منعم اور معطی (giver) ہے۔ یہ بلا شبہ خدا کے یک طرفہ انعامات ہیں جن کی بنا پر وہ اس دنیا میں زندہ اور قائم ہے۔ ایک لمحہ کے لیے اگر اس یک طرفہ عطیہ کا سلسلہ ٹوٹ جائے تو انسان اپنے وجود کو باقی نہیں رکھ سکتا۔ جب ایک انسان اس طرح خدا کو اپنے منعم کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے تو اس کے فطری نتیجہ کے طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کی روح کے اندر خدا سے محبت کا چشمہ جاری ہو جاتا ہے۔ وہ اُس حقیقت کی تصویر بن جاتا ہے جس کو قرآن میں: والذین آمنوا اشد حبّالله (165 :2) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن میں سجدۂ قربت (19 : 96) کا ذکر ہے۔ یہ سجدہ قربت کیا ہے۔ یہ سجدہ قربت دراصل اُس انسان کا سجدہ ہے جو اپنے رب کے لیے محبت اور خشیت سے سرشار ہو اور اس سرشاری کے تحت وہ اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر پڑے۔ اس قسم کا سجدہ ایک مومن کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page