Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ کا معیار

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

(taker)۔ اس کی سوچ خدا رخی سوچ بن جاتی ہے۔ اس کے جذبات کا مرکز خدا بن جاتا ہے، اس کی بات اور اس کے کردار میں خدا کا رنگ دکھائی دینے لگتا ہے، اس کے اندر کامل معنوں میں تواضع (modesty) پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ ایک کٹ ٹو سائز انسان (man cut to size) بن جاتا ہے، دوسروں کے لیے اس کے دل میں نفرت کے بجائے خیر خواہی پیدا ہو جاتی ہے، اس سے لوگوں کو اکڑ کے بجائے اعتراف کا تجربہ ہونے لگتا ہے، وہ ہر معاملے میں اپنی غلطی ڈھونڈنے لگتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ دوسروں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرے، وہ بولنے سے زیادہ خاموشی کو پسند کرنے لگتا ہے، آگے کی سیٹ حاصل کرنے کے بجائے پیچھے کی سیٹ اس کے لیے محبوب بن جاتی ہے، وہ بولنے سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ میری بات خدا کے یہاں قابل قبول ہوگی یا وہ خدا کے یہاں رد کردی جائے گی، وہ تنہائی میں بھی اُسی طرح محتاط ہو جاتا ہے جس طرح کوئی شخص مجمع کے درمیان محتاط ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page