تزکیہ نفس
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
مصداق غالباً انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے سائنس دانوں کا عمل ہے۔ انھوں نے معرفت کے حصول کے لیے ایک سائنٹفک فریم ورک دیا۔ آخرت میں اس سفرِ معرفت کو جاری رکھنے کے لیے اہلِ ایمان کو زیادہ اعلیٰ درجے کے مؤیدین حاصل ہوں گے۔ یہ ملائکہ ہوں گے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: نحن أولياكم في الحياة الدنيا وفي الآخرة (31 : 41) ۔ تزکیہ کا معیار تزکیہ کا معیار (criterion) کیا ہے۔ تزکیہ کا معیار یہ ہے کہ آدمی کو اسلامی طرزِ فکر اور اسلامی طرزِ عمل سے اتنی زیادہ مناسبت پیدا ہو جائے کہ وہ اس کو اپنے دل کی آواز محسوس کرنے لگے۔ وہ کسی گرانی کے بغیر اس کو فوراً قبول کرلے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف ۔ تزکیہ کا اصل مقصد تعلق باللہ بتایا گیا ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ تزکیہ کی پہچان یہ ہے کہ بندے کا سول کنسَرن (sole concern) صرف ایک ہستی بن جائے، اور وہ خدا کی ہستی ہے۔ اسی کا اصطلاحی نام توحید ہے، یعنی شرک سے مکمل طور پر پاک ہونا اور اللہ کو مکمل طور پر اپنا مرکزِ توجہ بنا لینا ۔ خدا کو اپنا سول کنسَرن بنانا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ آدمی کی ذات میں کامل انقلاب کے ہم معنی ہے۔ ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ پورے معنوں میں خدا کو، دینے والا (giver) سمجھنے لگتا ہے، اور اپنے آپ کو پورے معنوں میں پانے والا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader