Urdu book · علماء اور دورِ جدید

شاہ ولی اللہ دہلوی

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

مدرسہ رحیمیہ قائم کرنا، حدیث کے علم کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا، حجتہ اللہ البالغہ اور اس قسم کی دوسری قیمتی کتابوں کی تصنیف، وغیرہ۔ مگر اس قسم کے مختلف کام جو شاہ ولی اللہ نے انجام دیے، وہ سب اپنی نوعیت کے اعتبار سے تحفظاتی کام ہیں نہ کہ قائدانہ کام۔ تحفظاتی خدمت بھی بلاشبہ ایک قابل قدر خدمت ہے مگر تحفظاتی کردار اور قائدانہ کردار میں ایک بنیادی فرق ہے۔ تحفظ کا تعلق ماضی کی حفاظت سے ہے اور قیادت کا تعلق مستقبل کی تعمیر سے۔ ان کی تصنیف حجۃ اللہ البالغہ قائدانہ نوعیت کی ایک خدمت قرار دی جا سکتی تھی، بشرطیکہ وہ اسم باثمی ہوتی۔ مگر، جیسا کہ آئندہ وضاحت کی جائے گی، شاہ صاحب کی یہ کتاب اپنے اسلوب کے اعتبار سے دین الہی کی صرف تقلیدی تبئین ہے، وہ دین الہی کی عقلی تبئین نہیں۔ تحفظاتی کردار ادا کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ آدمی کو ماضی کے اثاثہ سے واقفیت ہو۔ مگر جس چیز کو قائدانہ کردار کہا جاتا ہے اس کی ادائیگی کے لیے مستقبل کو دیکھنے والی نگاہ درکار ہے۔ کیوں کہ قائدانہ کردار ایک شخص حال میں ادا کرتا ہے اور اس کا نتیجہ ہمیشہ مستقبل میں برآمد ہوتا ہے۔ اسی لیے تحفظاتی کردار ادا کرنے کے لیے مقلدانہ فکر کافی ہو جاتا ہے۔ مگر قائدانہ کردار ادا کرنا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ آدمی زمانہ شناسی کے ساتھ اعلیٰ مجتہدانہ صلاحیت کا مالک ہو۔ شاہ ولی اللہ نے اپنے بارہ میں لکھا ہے کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں قائم الزمان ہوں۔ یعنی یہ کہ اللہ جب نظام خیر میں سے کسی چیز کو چاہتا ہے تو وہ مجھ کو اپنی منشا کو پورا کرنے کے لیے آلہ کے طور پر استعمال کرتا ہے ( رَأَيْتُنِي فِي الْمَنَامِ قَائِمُ الزَّمَانِ - أَعْنِی بِذَلِكَ أَنَّ اللهَ إِذَا أَرَادَ شَيْئاً مِنْ نِظَامِ الخَيْرِ جَعَلَنِي كَالْحَارِحَةِ لِإِتْمَامِ مراده ، فیوض الحرمین ، صفحه ۸۹) میں سمجھتا ہوں کہ شاہ ولی اللہ کا یہ خواب صحیح تھا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ بالفعل قائم الزمان ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ انہیں قائم الزمان بننا چاہیے۔ شاہ ولی اللہ کی اہمیت یہ ہے کہ وہ دور جدید کے سرے پر پیدا ہوئے۔ وہ اس تاریخی مقام پر تھے جہاں ان کے لیے مقدر تھا کہ وہ وقت کے دھارے کو سمجھیں اور عمل اسلامی کی ایسی روایت قائم کریں جو ان کے بعد صدیوں تک جاری رہ کر دور جدید کو از سر نو اسلام کا دور بنا سکے۔ مگر وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page