Urdu book · علماء اور دورِ جدید

علماء اور دورِ جدید

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

تھا۔ یہ مزاج فطرت کو تحقیق و تسخیر کا موضوع بنانے میں مستقل رکاوٹ تھا۔ اسلام نے توحید کی بنیاد پر فکری انقلاب برپا کر کے سائنسی ترقی کا دروازہ کھولا۔ اس سلسلہ میں علوم سائنس (علوم فطرت) کی ترقی کے تین دور ہیں۔ (۱) ذہنی رکاوٹ (mental block) کو توڑنا۔ یہ کام مکہ سے بغداد (۱۲۵۸– ۶۱۰) کے تاریخی مرحلہ میں ہوا۔ (۲) نئے فکر کی بنیاد پر فطرت کی عملی تحقیق و تجربہ کا دروازہ کھولنا۔ یہ کام مسلم اسپین کے دور (۶۹۲– ۱۱۷) میں شروع ہوا۔ (۳) اس آغاز کو آخری تکمیل تک پہنچاتاہے۔ یہ کام سولھویں صدی سے لے کر انیسویں صدی تک کے دور میں مغربی یورپ میں انجام دیا گیا۔ یہاں یہ سوال ہے کہ جو کام مسلم دنیا میں شروع ہوا اور اس نے مسلم دنیا میں اپنے دور طے بھی طے کر لیے ، اس کی تکمیل یورپ میں پہنچ کر کیوں ہوئی۔ اس کی ایک نفسیاتی وجہ غالباً یہ تھی کہ بغداد کی مسلم سلطنت اور اسپین کی مسلم سلطنت کے درمیان اول روز سے رقابت پیدا ہو گئی۔ چنانچہ بغداد نے کبھی سنجیدہ طور پر اسپین کے کام کو سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ غالباً اسی رقابت کا یہ اثر تھا کہ ہندوستان یا کسی دوسرے ملک میں بھی کسی قابلِ ذکر شخصیت نے یہ نہیں سوچا کہ ہمیں اسپین کی ترقیوں سے واقف ہو کر اسے آگے بڑھانا چاہیے۔ یہ حقیقت اگر ہم عصر مسلم حکمرانوں اور مسلم رہ نماؤں پر واضح ہوتی اور وہ لوگ اس سلسلہ میں مثبت اقدام کرتے تو اسپین کے زوال کے بعد جو علما ر بھاگ کر مغربی یورپ میں گئے ، وہ اس کے بجائے مسلم دنیا کا رخ کرتے۔ اور پھر اسلام کے لائے ہوئے انقلاب کا تسلسل یورپ میں جاری ہونے کے بجائے مسلم دنیا میں جاری ہو جاتا۔ اور جس طرح جدید سائنسی دور کا آغاز کرنے کا کریڈٹ اسلام کو حاصل ہے ، اسی طرح اس دور کی تکمیل کا کریڈٹ بھی اسلام کو حاصل ہوتا۔ اس کے بعد یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تاریخ کا نقشہ اس سے بالکل مختلف ہوتا جو موجودہ دور میں ہمیں نظر آتا ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی علما رکے کردار کا دوسرا دور وہ ہے جس کی علامت شاہ ولی اللہ دہلوی (۱۶۹۲– ۱۷۶۳) کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے بلاشبہ کچھ مفید کام کیے ۔ مثلاً قرآن کا فارسی زبان میں ترجمہ،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page