Urdu book · علماء اور دورِ جدید

شاہ ولی اللہ دہلوی

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

آٹھارویں صدی میں سر آئزک نیوٹن نے اس فکری عمل کو تکمیل تک پہنچا دیا۔ نیوٹن کی کتاب، جس کا مختصر نام پرنسپیا ہے، شاہ ولی اللہ کی وفات سے ۵۷ سال پہلے، ۱۶۸۷ میں لاطینی زبان میں چھپی، اور ۱۷۲۹ ء میں انگریزی میں شائع ہوئی۔ اسپیس، ٹائم، گریوٹی اور فورس کے موضوعات پر مختلف سائنسی ذہن پہلے سے کام کر رہے تھے۔ مگر اس معاملے میں کامیابی کا سہرا نیوٹن کے حصے میں آیا۔ نیوٹن نے اپنی کتاب (پرنسپیا) میں یونیورسل گریویٹیشن کے قانون کو ریاضیاتی معقولیت (mathematical reasoning) کے ذریعہ آخری طور پر ثابت کر دیا ۔ (6/888) شاہ ولی اللہ کے زمانہ میں ایک نئے انقلاب کے تمام آثار ظاہر ہو چکے تھے۔ اس انقلاب کا فکری پہلو اسلام کے لیے بے حد اہمیت رکھتا تھا۔ وہ حقائق کی تقلیدی تشریح کو رد کر رہا تھا۔ اس کے نزدیک صرف وہ تشریح معقول اور مسلم حیثیت رکھتی تھی جو جدید سائنٹفک معیاروں پر کھری ہو۔ مگر شاہ ولی اللہ ان عالمی تبدیلیوں سے یکسر بے خبر رہے ۔ شاہ ولی اللہ واقعات کو دہلی کے محدود دائرہ میں دیکھ رہے تھے اور ان کی اصلاح کی سطحی تدبیریں کر رہے تھے۔ اگر وہ سفر کرتے اور واقعات کا مطالعہ عالمی حالات کے پس منظر میں کرتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ اصل مسئلہ ایک عالمی طوفان کا ہے نہ کہ اس نام نہاد سلطنت کو بچانے کی لاحاصل کوشش کرنے کا جو اپنی عمر طبعی کو پہنچ کر حکومت شاہ عالم از دہلی تا پالیم “ کا مصداق بن چکی ہے ۔ شاہ ولی اللہ جس مغل سلطنت کو زندہ کرنا چاہتے تھے وہ اتنی دیمک زدہ ہو چکی تھی کہ اس نے زندگی کی طاقت کھودی تھی۔ اس کے باوجود وہ اس سے بڑی بڑی امیدیں قائم کیے ہوئے تھے۔ التفہیمات الالهية میں وہ شاہان وقت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں بادشاہوں سے کہتا ہوں کہ اے بادشاہو، اس زمانہ میں ملا اعلیٰ کی مرضی یہ ہے کہ تم لوگ تلواروں کو کھینچ لو، پھر ان کو نیام میں داخل نہ کرو جب تک اللہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان فرق نہ پیدا کر دے اور کافروں اور فاسقوں کے سرکش افراد اپنے کمزوروں سے نہ مل جائیں۔ وہ اپنے لیے کچھ کرنے کے قابل نہ رہیں۔ اور یہی اللہ کا حکم ہے کہ تم ان سے جنگ کر دو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page