شاہ ولی اللہ دہلوی
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
واقول للملوك ايها الملوك، المرضى عند الملأ الاعلى في هذا الزمان ان تسلوا السيوف ثم لا تغمد وها حتى يجعل الله فرقانا بين المسلمين والمشركين ـ وحق يلحق مردة الكفار والفساق بضعفائهم لا يستطيعون لانفسهم شيئا۔ وهو قوله تعالى : وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله (التقييمات الالهية ، الجزء الاول ، ۱۹۴۷ ، صفحه ۱۶ - ۲۱۵) یہ نام نہاد ملوک اتنے کمزور ہو چکے تھے کہ وہ صرف پالکی میں بیٹھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے تھے۔ دہلی کے وزیر امداد الملک غازی الدین نے ۱۱۵۴ء میں شاہ ولی اللہ کے ہم عصر جہاں دارشاہ کے لڑکے کو تخت پر بٹھایا اور اس کا لقب عالمگیر ثانی رکھا۔ ۱۱۵۷ء میں افغان سردار احمد شاہ ابدالی دہلی آیا اور اس کو شہنشاہ ہند کا خطاب عطا کیا۔ مگر جلد ہی بعد ۵۹/۱۱۵۹ء میں اسی وزیر نے عالم گیر ثانی کو قتل کر دیا جس نے چند سال پہلے اس کو تخت پر بٹھایا تھا۔ ایسی سلطنت کے سامنے جہاد بالسيف کی تقریر کرنا ایسا ہی ہے جیسے مردہ لاشوں کے سامنے رجز پڑھنا۔ شاہ ولی اللہ کا یہ کارنامہ بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے گرتی ہوئی مغل سلطنت کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ انھوں نے نواب نجیب الدولہ کے ذریعہ کابل کے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان بلوایا۔ اس نے ۶۱۱۷۶ میں پانی پت کے مقام پر مرہٹوں کو شکست دے کر مغل سلطنت کے دشمن کو کچل دیا۔ مگر آخری نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ واقعہ شاہ ولی اللہ کے کارنامہ کے خانہ میں درج کرنے کے بجاے اس قابل نظر آئے گا کہ اس کو ان کی بے بصیرتی کے خانہ میں لکھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں شاہ ولی اللہ کا زیادہ بڑا کارنامہ یہ ہوتا کہ وہ ابن خلدون (۱۳۰۶- ۱۳۴۲) کے مقدمہ کے وہ صفحات پڑھتے جس میں ابن خلدون نے کیا طور پر لکھا ہے کہ کسی سلطنت کی بھی اسی طرح عمر ہوتی ہے جس طرح افراد کی عمر ہوتی ہے (ان الدولة لها اعمار طبيعية كما للاشخاص ، ۱۷۰) اور یہ کہ جب کوئی سلطنت بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کا اٹھنا ممکن نہیں ہوتا (ان الهرم اذا نزل بالدولة لا يرتفع ، ۲۹۳) شاہ ولی اللہ اگر اس راز کو جانتے تو انھیں معلوم ہوتا کہ ان کے کرنے کا اصل کام یہ نہیں ہے کہ وہ اس دیمک زدہ ستون کو بے فائدہ طور پر سنبھالنے کی کوشش کریں جس کے لیے گرنا خود قدرت کے قانون کے تحت مقدر ہو چکا ہے۔ بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ وہ نئے حالات کو سمجھیں اور پھر سے امت کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader