Urdu book · علماء اور دورِ جدید

دوسری عالمی جنگ کے بعد

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

نے ایسی جماعتیں بنائیں جن کا مقصد اسلامی قانون کی حکومت قائم کرنا تھا۔ اس سیاست نے دوبارہ مسلم ملکوں کو میدان کارزار بنا دیا، اس فرق کے ساتھ کہ پہلے اگر مسلم علما کا ٹکراؤ غیر مسلم قوموں سے تھا تو اب ان کا ٹکراؤ خود مسلمانوں کے ایک طبقے کے ساتھ پیش آگیا۔ مسلم جماعتیں ہر ملک میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے لگیں۔ علما کی ان کوششوں سے ایسا تو نہیں ہوا کہ کسی مسلم ملک میں خالص شرعی انداز کی حکومت قائم ہو جائے۔ البتہ اس کا یہ نتیجہ ضرور ہوا کہ مسلمان دو گھر ہوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے لگے۔ پہلے اگر غیر مسلم طاقت مسلمان کو مارتی تھی تو اب خود مسلمان ایک دوسرے کو مارنے لگے۔ اس کا مزید نقصان یہ ہوا کہ ہر جگہ مسلم معاشرہ تخریبی سرگرمیوں کا اکھاڑ بن گیا۔ مسلم ملکوں کے علما اگر یہ کرتے کہ وہ عملی سیاست سے الگ رہ کر مسلمانوں کی اصلاح کرتے۔ ان کے اندر اسلام کی روح بیدار کرتے۔ جدید معیار پر اسلامی لٹریچر تیار کر کے مسلم نسلوں کے اندر اسلام کی طلب پیدا کرتے۔ اگر وہ اس قسم کے کام کرتے تو وہ زیادہ بہتر طور پر اسلامی حکومت کے قیام میں مددگار ہو سکتے تھے۔ وہ جب مسلم معاشرہ کو اسلامی معاشرہ بنا دیتے تو اس کے بعد اس کے اندر سے جو نظام حکومت ابھرتا وہ یقیناً اسلامی نظام حکومت ہوتا، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ : کما تکونون کذا لک یُوَ مّر علیکم (مشکوۃ المصابیح ۲ / ۱۰۹۷) مسلم ملکوں میں اسلامی قانون کے نفاذ میں ناکامی کا اصل سبب سیکولر حکمرانوں کا ظلم یا دشمنان اسلام کی سازشیں نہیں ہیں، جیسا کہ اسلام پسند حضرات ہمیشہ کہا کرتے ہیں۔ اس کا اصل سبب خود علمبرداران اسلام کی یہ غلطی ہے کہ وہ معاشرہ کو ضروری حد تک تیار کیے بغیر اسلامی قانون کے نفاذ کی مہم لے کر کھڑے ہو گئے۔ پاکستان کا تجربہ واضح طور پر اس کی تصدیق کرتا ہے۔ پاکستان میں ایک سے زیادہ بار اسلام پسندوں کو حکومت پر جزئی یا کلی قبضہ کا موقع ملا۔ مگر وہ کسی بھی درجہ میں وہاں شریعت کو نافذ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ مثلاً مفتی محمود کے زمانہ (۷۱ء۔ ۱۹۷۰) میں صوبہ سرحد کی حکومت ، جنرل محمد ضیا الحق کے زمانہ (۸۸ء۔ ۱۹۶۶) میں پورے ملک کی حکومت ۔ حضرت عائشہ کی ایک روایت اس معاملہ کے اوپر نہایت صحیح تبصرہ ہے۔ صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن (باب تالیف القرآن) میں ایک طویل روایت آتی ہے ۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page