دوسری عالمی جنگ کے بعد
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
انما نزل اول ما نزل من سورة من قرآن میں پہلے مفصل کی سورت میں اتریں ۔ ان میں المفصل - فيها ذكر الجنة والنار حتى اذا جنت اور جہنم کا ذکر تھا ۔ یہاں تک کہ جب لوگ ثاب الناس الى الاسلام نزل الحلال اسلام کی طرف رجوع ہو گئے تو حلال و حرام کے والحرام ۔ ولو نزل اول شيئ لا تشربوا احکام اترے ۔ اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ شراب الخمر لقالوالا ندع الخمر ابدا - چھوڑ دو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے ۔ ولو نزل لا تزنوا لقالوالا ندع اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ کہتے الزنا ابداً مسلم ملکوں کے بارہ میں علما نے یہ فرض کر لیا کہ چونکہ وہ مسلمان ہیں اس لیے وہ اسلامی قانون چاہتے ہیں۔ یہ مکمل طور پر ایک غلط اندازہ تھا۔ موجودہ مسلم نسلوں کی حیثیت ایک قومی مجموعہ کی ہے نہ کہ حقیقتہً ایک دینی گروہ کی۔ حتی کہ ان میں جو لوگ نماز ، روزہ جیسے اعمال کرتے ہیں یا حج اور عمرہ ادا کرتے ہیں، ان کے بارہ میں بھی یہ اندازہ سراسر غلط ہوگا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ حکومت کا اقتدار علما کے ہاتھ میں ہو اور وہ ان کے اوپر شریعت کے قوانین کا نافذ کریں۔ مسلم ملکوں میں علما کی غیر حقیقت پسندانہ سیاست نے جو صورت حال پیدا کی ہے۔ اس کا خلاصہ حضرت عائشہ کی زبان میں یہ ہے کہ علما، لوگوں کے اندر رجوع اور آمادگی پیدا کیے بغیر شراب اور زنا کے احکام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اور وہاں کے عوام ان کو جواب دے رہے ہیں کہ ہم تو تمہارے اس قانون کو کبھی اپنے اوپر نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ اس سے پہلے ۱۱ جنوری ۱۸۲۷ء کو سید احمد بریلوی اور ان کے رفقار نے پشاور کے علاقہ میں اسلامی حکومت قائم کی تھی۔ سید صاحب کو اس میں امیر المومنین منتخب کیا گیا تھا۔ مگر بہت جلد آپس میں اختلاف ہوا۔ حتی کہ مقامی مسلمانوں نے سید صاحب کے مقرر کردہ عاملوں کو قتل کر دیا۔ اس طرح یہ اسلامی حکومت بننے کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔ معاشرہ کی تیاری کے بغیر اسلامی حکومت قائم کرنے کا یہ ناکام تجربہ بعد والوں کے لیے چشم کشا نہ بن سکا۔ وہ آج بھی اسی تجربہ کو دہرانے میں مصروف ہیں جو ڈیڑھ سو سال پہلے اپنا ناممکن العمل ہونا ثابت کر چکا ہے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں تقریباً پوری مسلم دنیا میں ’’اسلامی انقلاب‘‘ کی تحریکیں چلائی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader