Urdu book · علماء اور دورِ جدید

علماء اور دورِ جدید

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

گئیں ۔ ان تحریکوں کے قائد علماء اور اسلام پسند مفکرین تھے ۔ ایران ، پاکستان ، مصر ، سوڈان ، ہشلم ، الجیریا ، انڈونیشیا ، بنگلہ دیش اور دوسرے بہت سے مسلم علاقوں میں اس کی مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مگر یہ لوگ اپنے دور تحریک اور دور اقتدار دونوں میں صرف اسلام کو بدنام کرنے کا سبب بنے ۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حکومت الہیہ ، اسلامی نظام اور نفاذ شریعت کے نام پر اس دور میں جو تحریکیں اٹھیں وہ صرف الثانیہ پیدا کرنے والی (counter-productive) ثابت ہوئی ہیں ۔ یہ ایک عبرت ناک حقیقت ہے کہ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں بہت سے بڑے بڑے دماغوں نے یہ اعلان کیا کہ اسلام موجودہ زمانہ کے انسانی مسائل کا حل ہے مثلاً سوامی ویویکانند (۱۹۰۲ - ۱۸۶۳) جارج برنارڈ شا (۱۹۵۰ - ۱۸۵۶) آرنلڈ ٹوائن بی (۱۹۷۵ - ۱۸۸۹) وغیرہ ۔ مگر بیسویں صدی کے نصف آخر میں کسی بھی قابل ذکر عالمی شخصیت کی زبان سے اس قسم کا اعتراف سنائی نہیں دیتا ۔ اس کی وجہ موجودہ زمانہ کے نام نہاد انقلابی رہنماؤں کی غلط نمائندگی ہے۔ اس سے پہلے عالمی مفکرین کے سامنے اسلام کے دور اول کی تاریخ تھی ۔ اس سے متاثر ہو کر وہ اسلام کا شاندار تصور قائم کیے ہوئے تھے ۔ مگر موجودہ زمانہ کے علماء اور رہنماؤں نے اسلام کے نام پر جو بے معنی تحریکیں اٹھائیں وہ صرف انسانیت کے مصائب میں اضافہ کا سبب بنیں ۔ زمانہ حاضر کے ان نام نہاد نمائندگانِ اسلام کے نمونوں کو دیکھ کر لوگ اسلام سے بیزار ہو گئے ۔ ان کا یہ تاثر ختم ہوگیا کہ اسلام موجودہ زمانہ میں انسانی فلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔ پیغمبر کی مثال عبد اللہ ابن عباس کی دور کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک روز قریش کے اکابر کعبہ کے پاس جمع ہوئے ۔ انہوں نے باہم مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ اپنا ایک شخص بھیج کر محمد کو بلاؤ تاکہ ان سے بات کر کے معاملات طے کیے جاسکیں ۔ پیغام پاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں آئے۔ گفتگو شروع ہوئی تو قریش کے نمائندہ نے کہا کہ آپ ہماری قوم کے لیے مصیبت بن گئے ہیں ۔ آپ نے ہمارے آباء کو گالی دی ۔ ہمارے دین پر عیب لگایا ۔ ہماری عقلوں کو بیوقوف بتایا اور ہمارے اصنام کو گالیاں دیں (لقد شتمت الآباء وعبت الدين

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page