Urdu book · علماء اور دورِ جدید

علماء اور دورِ جدید

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو جاتا تھا۔ مگر مغربی اقوام کا غلبہ اس سے زیادہ تھا کہ اس کا فیصلہ کسی میدان جنگ میں کیا جا سکے ۔ مغربی قوموں کے غلبہ و ترقی کا اصل راز یہ تھا کہ انھوں نے شاکلہ انسانی کو تبدیل کر دیا تھا۔ ان کے لائے ہوئے علمی انقلاب نے ساری دنیا کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ اسی طرح سوچیں جس طرح اہل مغرب سوچتے ہیں۔ وہ چیزوں کے بارہ میں اسی طرح رائے قائم کریں جس طرح اہل مغرب رائے قائم کرتے ہیں۔ اس تبدیلی نے میدان مقابلہ کو جنگ کے بجائے فکر کے میدان میں پہنچا دیا۔ اہل مغرب سے کامیاب مقابلہ کے لیے ضروری تھا کہ انھیں فکر کے میدان میں شکست دی جائے ۔ اہل مغرب پر فتح پانے کے لیے وسیع تر معنوں میں شاکلہ انسانی کو دوبارہ بدلنے کی ضرورت تھی۔ مگر علما سیاسی جھگڑوں میں مشغول ہونے کی وجہ سے نہ اس راز کو سمجھ سکے اور نہ اس کے لیے انھوں نے کوئی حقیقی عمل انجام دیا۔ کونیت بشری، امارت بشری جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ، زندگی کی تشکیل میں کونیت بشری (عقلیت انسانی) کی حیثیت بنیاد کی ہے اور امارت بشری کی حیثیت ظاہری ڈھانچہ کی۔ کونیت بشری اگر درست ہو تو ظاہری سیاسی ڈھانچہ بھی لازماً درست ہو گا ۔ کسی کی سازش یا تخریب اس کو اصلاح سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کی مثال ابو بکر صدیق اور عمر فاروق کا زمانہ خلافت ہے ۔ اور جب کونیت بشری میں بگاڑ آجائے تو اس کے بعد کوئی صالح حکمراں بھی محض حکومت کے زور پر معاشرہ کو صالح معاشرہ نہیں بنا سکتا۔ موجودہ زمانہ میں یہ درد ناک منظر سامنے آیا ہے کہ عملی سیاست کے میدان میں علما کی تمام کوششیں مسلسل طور پر بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ، سید احمد بریلوی نے پشاور میں اسلامی حکومت قائم کی۔ مگر بہت کم مدت میں اس کا پورا ڈھانچہ ٹوٹ کر ختم ہو گیا۔ مولانا مفتی محمود کو موقع ملا کہ وہ پاکستان کے صوبہ سرحد میں اپنی چیف منسٹری کے تحت اسلام پسندوں کی وزارت بنائیں، مگر میعاد پوری ہونے سے پہلے ہی وہ ناکامی کے ساتھ ختم ہو گئی۔ سوڈان میں ۱۹۸۸ء میں الاخوان المسلمون کو یہ موقع ملا کہ وہ جعفر النمیری کی حکومت میں مؤثر شرکت کر سکیں ۔ مگر ان کی یہ شرکت سوڈان کے معاشرتی حالات میں کچھ بھی تبدیلی نہ لاسکی اور دوبارہ اپنی مدت کے اختتام سے پہلے ختم ہو گئی۔ پاکستان میں جنرل محمد ضیاء الحق کو ساڑھے گیارہ سال تک کامل حکمرانی کا موقع ملا۔ ان کو ہند و پاک دونوں ملکوں کے علما کی تائید حاصل تھی ۔ مگر وہ پاکستان کے حالات میں کوئی بھی اسلامی تبدیلی لانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ وغیرہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page