کونیت بشری، امارت بشری
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
عملی سیاست کے میدان میں علماء کی مسلسل ناکامی کا سبب یہ ہے کہ وہ منصوبہ الہی کے خلاف چل رہے ہیں۔ ان کی ان تمام سرگرمیوں پر حضرت عائشہ کی وہ روایت صادق آتی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ وہ کونیت بشری کو درست کیئے بغیر امارت بشری کا منصب سنبھالنا چاہتے ہیں۔ ایسی کوشش حضرت عائشہ کے قول کے مطابق، پیغمبر کے زمانہ میں بھی کامیاب نہیں ہوسکتی تھی، پھر وہ موجودہ زمانہ میں کس طرح کامیاب ہوسکتی ہے۔ راقم الحروف کا اندازہ ہے کہ علماء کو صحیح طور پر اس کا اندازہ ہی نہیں کہ موجودہ زمانہ میں کونیت بشری میں کیا تبدیلی آئی ہے اور آج کا وہ انسانی شاکلہ کیا ہے جس کو سمجھنا اور جس کی تصحیح کرنا وہ پہلا ضروری کام ہے جس میں انھیں سب سے پہلے مصروف ہونا چاہئے۔ تصحیح شاکلہ کے بغیر کوئی بھی عملی سیاست ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اگلی سطروں میں اس مسئلہ کی مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔ شاکلہ، انسانی کا مسئلہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے شاکلہ (فکری مزاج) کے تحت عمل کرتا ہے۔ اس کا شاکلہ اگر شاکلہ ضلالت ہو تو اس سے غلط عمل صادر ہوگا۔ اور اگر اس کا شاکلہ شاکلہ ہدایت ہو تو اس سے صحیح عمل کا صدور ہوگا (قل كل يعمل على شاكلته فربكم اعلم بمن هو اهدی سبیلا) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے دنیا کا اصل مسئلہ یہ تھا کہ لوگوں کے اوپر شاکلہ ضلالت کا غلبہ تھا۔ یہ شاکلہ مشرکانہ عقائد کے تحت بنتا تھا۔ اسی شاکلہ ضلالت کو قرآن میں فتنہ (الانفال ۲۹) کہا گیا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول نے اپنی غیر معمولی جد و جہد سے اس شاکلہ ضلالت کو توڑ دیا۔ اس کے بعد دنیا میں شاکلہ ہدایت کا دور شروع ہوا جو توحید کے تصور پر مبنی تھا۔ یہ شاکلہ ہدایت کم و بیش ایک ہزار سال تک دنیا پر غالب رہا۔ اٹھارہویں صدی میں یہ عہد ختم ہو کر نیا عہد شروع ہوا۔ اب تاریخ انسانی میں ایک نیا دور آیا۔ یہ دور دوبارہ شاکلہ ضلالت پر مبنی تھا جو ملحدانہ افکار کے اوپر قائم ہوا تھا۔ اسلامی دور میں ”خدا“ انسانی تفکیر کا مرکز تھا۔ یہی تصور انسانی اعمال کی تشکیل کرتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں ”نیچر“ نے خدا کی جگہ لے لی۔ اب نیچر پر مبنی افکار انسانی اعمال کی تشکیل کرنے لگے۔ شاکلہ انسانی کی اس تبدیلی نے انسانی زندگی کے تمام عملی نقشوں کو یکسر بدل دیا۔ حتی کہ جو لوگ بظاہر اب بھی خدا کو مانتے تھے وہ بھی اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader