Urdu book · علماء اور دورِ جدید

علماء اور دورِ جدید

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۱۹۹۲ء میں لکھنؤ میں ایک سیمینار ہوا۔ اس کا انتظام اسٹوڈنٹس اسلامک ویلفیر سوسائٹی نے کیا تھا۔ اس کا موضوع بحث تھا علما کا قائدانہ کردار۔ راقم الحروف نے منتظمین کی دعوت پر اس سیمینار میں شرکت کی۔ زیر نظر مقالہ اسی سیمینار کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یکم مارچ ۱۹۹۲ کے اجلاس میں اس کا خلاصہ پیش کیا گیا۔ اس مقالہ میں موجودہ زمانہ میں علما کے قائدانہ کردار کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس قسم کے تنقیدی جائزہ کے لیے شرعی نقطۂ نظر یہ ہے کہ دو چیزوں کو بالکل ایک دوسرے سے الگ رکھا جائے ۔ ایک ہے لوگوں کی نیت اور ان کے ایمان و اخلاص کا معاملہ۔ دوسرا ہے اس تدبیر کار کا معاملہ جو متعلقہ اشخاص نے مسائل کے مقابلہ میں اختیار کیا۔ شریعت کے مطابق ، نیت یا ایمان و اخلاص کو بحث کا موضوع بنانا سراسر ناجائز ہے۔ مگر تدبیر کار کو زیر بحث لانا سراسر جائزہ۔ زیر نظر مقالہ میں اس تقسیم کو پوری طرح ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس میں نیت یا ایمان و اخلاص کو زیر بحث لائے بغیر صرف اس تدبیر کار کا جائزہ لیا گیا ہے جو ہمارے علما نے دور جدید میں اختیار کیا۔ زیر نظر جائزہ کا حاصل یہ ہے کہ علما نے جو تدبیر کار اختیار کی وہ زمانہ حاضر کے تقاضوں کے مطابق نہ تھی۔ اس لیے ان کی کوششیں اور ان کی قربانیاں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔ تاہم یہ علما کی اجتہادی خطا تھی ، اور جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے ہومن کا اجتہاد اگر درست ہو تو اس کے لیے دو ثواب ہے ، اور اگر وہ اپنے اجتہاد میں غلطی کر جائے تو اس کے لیے ایک ثواب۔ یہ مقالہ بظاہر تنقید ہے مگر حقیقت وہ تجویز ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ گزشتہ کے جائزے کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل متعین کیا جائے ۔ تاکہ جو کام ماضی میں نہیں ہوا اس کو زیادہ صحیح منصوبہ بندی کے ساتھ مستقبل میں انجام دیا جا سکے ۔ وحید الدین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page