Urdu book · علماء اور دورِ جدید

علماء اور دورِ جدید

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

علما کا قائدانہ کردار موجودہ زمانہ میں علما کا قائدانہ کردار ۔ یہ وہ موضوع ہے جس کا مجھے زیر نظر مقالہ میں جائزہ لینا ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اسلام نے علما کے لیے کیا کردار مقرر کیا ہے تاکہ ہمیں ایک معیار مل جائے جس کی روشنی میں موجودہ زمانہ کے علما کی سرگرمیوں کی قدر و قیمت متعین کی جاسکے۔ علما کا رول اسلام میں راقم الحروف کے نزدیک ، علما کے رول کے سلسلہ میں قرآن کی رہنما آیت یہ ہے : وما كان المؤمنون لينفروا كافة فلولا اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان سب نکل کھڑے ہوں، نفر من كل فرقة منهم طائفة تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک ليتفقهوا فى الدين ولينذروا قومهم حصہ نکل کر آتا تا کہ وہ دین میں سمجھ پیدا کرتا اور اذا رجعوا اليهم لعلهم يحذرون واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو ڈراتا تا کہ وہ بھی ( التوبه ۱۲۲ ) پر ہیز کرنے والے بنتے۔ اس آیت میں فقہ کا لفظ وضاحت طلب ہے۔ پہلے ہم فقہ یا فقہ کی لغوی تحقیق کریں گے۔ اس کے بعد یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ اس آیت کے مطابق علما کا کردار کیا ہے یا کیا ہونا چاہیے۔ فقہ کا لفظ بعد کے زمانہ میں علم الفروع کے لیے بولا جانے لگا ہے۔ یعنی شریعت کے جزئی مسائل کو جاننا۔ مگر یہ اس لفظ کا ایک استعمالی مفہوم ہے جو نزول قرآن کے بہت بعد رائج ہوا۔ قرآن میں فقہ موجودہ معروف معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس کے اصل لغوی معنی میں ہے۔ راغب الاصفہانی (م ۵۰۲ ھ) نے لکھا ہے کہ فقہ یہ ہے کہ موجود علم کے ذریعہ غائب علم تک پہنچا جائے۔ پس فقہ کا لفظ علم کے لفظ سے زیادہ خاص ہے ( الفقہ هو التوصل إلى علم غائب بعلم شاهد فهو اخص من العلم) المفردات في غرائب القرآن ، ۳۸۳ لسان العرب (ابن منظور) میں اس کی مفصل تشریح ہے۔ اس میں بتایا ہے کہ فقہ اصلاً فہم کے معنی میں ہے۔ (الفقه في الاصل الفهم) ليتفقهوا في الدين کی تشریح اس نے لیکونوا علماء به

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page