دورِ جدید سے بے خبری
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
اور مقصد نظر آتا ہے۔ لیکن اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اس اعلان کا مقصد یہ ہے اور اعلان کرنے والا جان بوجھ کر اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ میرا کوئی بادشاہ یا فرماں روا نہیں ہے۔ کوئی حکومت میں تسلیم نہیں کرتا۔ کسی قانون کو میں نہیں مانتا۔ کسی عدالت کے حدود اختیارات مجھ تک نہیں پہنچتے۔ کسی کا حکم میرے لیے حکم نہیں ہے۔ کوئی رواج اور کوئی رسم مجھے تسلیم نہیں۔ کسی کے امتیازی حقوق، کسی کی ریاست، کسی کا تقدس، کسی کے اختیارات میں نہیں مانتا۔ ایک اللہ کے سوا میں سب سے منحرف ہوں۔ تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس صدا کو کہیں بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ آپ خود کسی سے لڑنے جائیں یا نہ جائیں دنیا خود آپ سے لڑنے آجائے گی۔ یہ آواز بلند کرتے ہی آپ کو یوں محسوس ہوگا کہ یکایک زمین و آسمان آپ کے دشمن ہو گئے ہیں اور ہر طرف آپ کے لیے سانپ، بچھو اور درندے ہی درندے ہیں“ اسلامی سیاست، دہلی ۱۹۸۶ ، صفحہ ۱۷۵-۱۷۶ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے یہ پر جوش الفاظ اس لیے لکھے کہ انھوں نے دیکھا کہ آج ہماری مسجدوں سے اذان کی آواز بلند ہو رہی ہے تو کوئی اس کی وجہ سے ہم سے لڑنے نہیں آتا۔ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں توحید کی آواز بلند کی تو ہر طرف سے تشددانہ مخالفت شروع ہوگئی۔ ”کسی کو گھر والوں نے نکال دیا۔ کسی پر مار پڑی۔ کسی کو قید میں ڈالا گیا۔ کسی کو تپتی ہوئی ریت پر گھسیٹا گیا۔ کسی کی سرِ بازار پتھروں اور گالیوں سے تواضع کی گئی۔ کسی کی آنکھ پھوڑ دی گئی۔ کسی کا سر پھاڑ دیا گیا “ (صفحہ ۱۷۷) یہ الفاظ دورِ جدید سے بے خبری کا ثبوت ہیں۔ مصنف اگر زمانۂ حاضر سے گہری واقفیت رکھتے تو وہ جانتے کہ اس فرق کا سبب زمانی عامل (age factor) ہے ۔ قدیم زمانہ مذہبی تعذیب (religious persecution) کا زمانہ تھا، موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔ مذکورہ فرق لا الہ الا اللہ کے سیاسی مفہوم کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ زمانی فرق کا معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود سید ابوالاعلیٰ مودودی جو یقینی طور پر اس ” انقلابی مفہوم“ کے حامل تھے، انھوں نے اور ان کی جماعت نے غیر منقسم ہندوستان میں دس سال تک اپنے انقلابی مفہوم کے مطابق ” اذان “ دی۔ مگر یہاں کی حکومت نے کبھی اس بنا پر ان کی پکڑ دھکڑ نہ کی۔ اور نہ ان کے سروں پر اس وجہ سے آرے چلائے گئے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اگر اس زمانی فرق کو جانتے تو اس کو وہ اسلامی دعوت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader