Urdu book · علماء اور دورِ جدید

دورِ جدید سے بے خبری

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

کے حق میں ایک عظیم امکان سمجھتے۔ مگر اس فرق کی حقیقت نہ جاننے کی وجہ سے وہ اس کو استعمال نہ کر سکے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک کتاب ”تنقیحات“ ہے۔ اس میں مصنف کے وہ مضامین جمع کیے گئے ہیں جو انھوں نے اسلام اور مغربی تہذیب کے تصادم پر لکھے تھے۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مغربی تہذیب سراسر باطل تہذیب ہے۔ دہریت، الحاد، لانذہبیت اور مادہ پرستی نے اس کو پیدا کیا ہے۔ مذہب کے خلاف عقل و حکمت کی لڑائی نے اس تہذیب کو جنم دیا ہے (صفحہ ۹) اسلام کے اصول تمدن و تہذیب مغربی تہذیب و تمدن کے اصول سے یکسر مختلف ہیں (صفحہ ۲۵) وہ تخم خبیت جو مغرب کی نشاۃ ثانیہ کے زمانہ میں بویا گیا تھا، چند صدیوں کے اندر تمدن و تہذیب کا ایک عظیم الشان شجر خبیث بن کر اٹھا ہے جس کے پھل میٹھے مگر زیر آلود ہیں۔ جس کے پھول خوش نما مگر خار دار ہیں۔ جس کی شاخیں بہار کا منظر پیش کرتی ہیں مگر وہ ایسی زہریلی ہوا اگِل رہی جو نظر نہیں آتی اور اندر ہی اندر نوع بشری کے خون کو سمسوم کیے جارہی ہیں (صفحہ ۲۸ - ۲۹) اس قسم کے مضامین صرف جدید تہذیب سے بے خبری کا نتیجہ ہیں۔ اس بے خبری کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانہ کے علماء کے لیے یہ تہذیب صرف نفرت و حقارت کا موضوع بن گئی۔ وہ اس کے اندر چھپے ہوئے مثبت امکانات کو دریافت کرنے سے قاصر رہے۔ اور اسی لیے وہ اس کو اپنے حق میں استعمال بھی نہ کر سکے۔ سطحی رائے انیسویں صدی کے آغاز میں شاہ عبدالعزیز دہلوی نے اعلان کیا کہ ہندوستان دار الحرب ہو گیا ہے۔ اس کے بعد ۵۰۰ علما نے یہ فتویٰ دیا کہ مسلمانوں پر فرض ہو گیا ہے کہ وہ انگریزوں کے خلاف جہاد بالسيف کریں۔ اس واقعہ کے ڈیڑھ سو سال بعد بھی جہاد بالسيف کی باتیں بدستور جاری ہیں ۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی ایک سفر کے دوران حمص گئے۔ اس کی روداد بیان کرتے ہوئے وہ اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھتے ہیں : ” حمص ، جو سیف اللہ خالد بن ولید کی آرام گاہ ہے ، وہاں مرکز اخوان المسلمین میں ۲۹ جولائیٰ ۱۹۵۱ء کو میری ایک دلولا انگیز تقریر ہوئی۔ میں نے کہا کہ شام و حمص کے رہنے والو، عالم اسلام کو اب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page