Urdu book · علماء اور دورِ جدید

دورِ جدید سے بے خبری

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم خیال یہ تھا کہ شریعت کے احکام مصالح پر مبنی نہیں ہوتے۔ یہ گویا آقا کی طرف سے اپنے بندے کے لیے حکم ہے اور اس کی اطاعت یا عصیان پر جزا اور سزا کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ مصنف نے قرآن و حدیث کی بہت سی مثالیں دے کر بتایا ہے کہ یہ خیال صحیح نہیں کیوں کہ خود شارع نے اپنے متعدد احکام میں یہ اشارہ کیا ہے کہ وہ مصالح پر مبنی ہیں۔ مثلاً ولكم فی القصاص حیاة یا اولی الالباب (البقرہ ۱۷۹) یا صدقہ کے بارہ میں یہ حدیث کہ تؤخذ من اغنیا نهم فترد علی فقرائیھم۔ اسی طرح انھوں نے صحابہ و تابعین کے کچھ اقوال جمع کیے ہیں جن میں مصالح احکام کا تذکرہ ہے بعد کے زمانہ میں علماء کے یہاں بھی جزئی طور پر اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاً الغزالی، الخطابی، ابن عبد السلام وغیرہ (۳-۶) تاہم حجۃ اللہ البالغہ کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ ہے۔ کیوں کہ یہ کتاب مکمل طور پر اسرار شریعت ہی کے موضوع پر ہے۔ مصنف کے بیان کے مطابق ، ان کو بطریق کشف اس کا اشارہ ملا۔ پھر اللہ نے ان پر الہام کیا (ثم الھمنی ربی) کہ وہ اس قسم کی ایک کتاب لکھیں۔ حتی کہ خواب میں حضرات حسنین نے ان کو ایک قلم دیا اور کہا کہ : هذا قلم جدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس قسم کی چیزیں بتاتے ہوئے شاہ صاحب لکھتے ہیں : إن الشريعة المصطفوية أشرفت شریعت محمدی کے لیے اس زمانہ میں وہ وقت في هذا الزمان على أن تبرز في قُبُصِ آ گیا کہ وہ دلیل و برہان کے مکمل پیرہن کے ساتھ جلوہ افروز ہو۔ سابغة من البرهان (صفحہ ۳) علماء، خاص طور پر ہندوستانی علماء ، اس کتاب کو ایک معرکہ الآرا کتاب سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس میں موجودہ دور عقلیت کے لیے تشفی کا وافر سامان موجود ہے۔ حتی کہ ان کا خیال ہے کہ کسی مذہب کی عقلی تائید اور اس کی حکیمانہ توجیہہ کے موضوع پر آج تک اس پایہ کی کتاب نہیں لکھی گئی (۲۱۶) نواب صدیق حسن خان (۱۸۹۰-۱۸۲۲) نے لکھا ہے کہ اسرار احکام کے موضوع پر بارہ سو سال کے درمیان عرب وعجم کے کسی عالم کی ایسی کوئی کتاب موجود نہ تھی (مثل آں دریں دروازده صد سال ہجری ہیچ یک از علماء عرب و عجم تصنیف موجود نیا مدہ) میرے پاس حجۃ اللہ البالغہ کا وہ نسخہ ہے جو قاہرہ (دار التراث) سے ۱۲۵۵ھ میں چھپا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page