دورِ جدید سے بے خبری
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا جزء اول ۱۹۸ صفحہ پر مشتمل ہے اور جزء ثانی ۲۱۵ صفحہ پر۔ زیر نظر مقالہ کی ترتیب کے دوران میں نے اس کتاب کو تقریباً مکمل دیکھا۔ بعض حصے کئی کئی بار پڑھے۔ مگر میں بلا مبالغہ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ساری کتاب میں کوئی ایک بھی ایسا بیان نہیں ملا جس کو جدید سائنٹفک معیار کے مطابق ، عقلی دلیل کا درجہ دیا جا سکتا ہو۔ کتاب کا نام (حجتۃ اللہ البالغہ) جو قرآن کی ایک آیت سے ماخوذ ہے ، وہ بلاشبہ نہایت اعلیٰ ہے۔ مگر اصل کتاب حجت بالغہ کے انداز میں نہیں ، بلکہ صرف تقلیدی انداز میں شریعت اسلامی کی تشریح کرتی ہے۔ اس کتاب کی ترتیب بنیادی طور پر کتب فقہ کی ترتیب پر قائم کی گئی ہے۔ یہ ترتیب بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ شاہ ولی اللہ قدیم تقلیدی ڈھانچے سے باہر نہ نکل سکے۔ کیوں کہ ابواب فقہ در اصل ابواب احکام ہیں نہ کہ ابواب اسرار۔ کتاب کے مباحث عام طور پر اعلم کے لفظ سے شروع ہوتے ہیں۔ یہ بھی تقلیدی مزاج کا ثبوت ہے۔ یہ اس دور کا انداز کلام ہے جب کہ آدمی مقام عالم سے بولتا تھا۔ جدید انداز کلام مقام علم سے بولنے کا ہے۔ مگر شاہ ولی اللہ اس فرق کو سمجھ نہ سکے۔ اسی طرح کتاب میں جگہ جگہ "بینا" لکھا گیا ہے۔ یہ بھی ایک غیر علمی اسلوب ہے جو صرف اعتقادی کتابوں کے لیے موزوں ہے۔ علمی اعتبار سے اصل موضوع بحث یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ہمارے نبی تھے ۔ اصل موضوع بحث یہ ہے کہ کیا وہ خدا کے نبی تھے۔ اس کتاب میں شترہ سے لے کر سیاست مدن تک ہر چیز پر کلام کیا گیا ہے ، مگر سب کا سب تقلیدی اور اعتقادی اسلوب میں ہے نہ کہ حقیقتہً علمی اسلوب میں۔ مثال کے طور پر نیت اور عبادت کی تشریح میں یہ الفاظ لکھے گئے ہیں : اعلم ان النیۃ روح والعبادۃ جسد ولا حیاۃ للجسد بدون الروح (الجزء الثانی ۸۳) یعنی جان لو کہ نیت روح ہے اور عبادت جسم ہے۔ اور روح کے بغیر جسم کی کوئی زندگی نہیں۔ اسرار الصلاۃ کے تحت لکھتے ہیں : أحسن الصلاۃ ما کان جامعاً بين الأوضاع الثلاثة مترقياً من الأدنى إلى الأعلى ليحصل الاستشعار بالخضوع والتذلل (الجزء الاول، (۴) یعنی بہترین نماز وہ ہے جس میں تینوں وضع جمع ہو جائے۔ جس میں ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی ہو (قیام) پھر رکوع پھر سجدہ) تاکہ خضوع اور تزلل کو محسوس کرنے کی طرف ترقی حاصل ہو سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader