Urdu book · علماء اور دورِ جدید

علما کا رول اسلام میں

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

نہ رہا۔ اس وقت لوگوں کو عمومی خروج سے روکنے کے لیے یہ آیت اتری۔ اس آیت میں امت کو مستقل نوعیت کا ایک رہنما اصول دے دیا گیا۔ وہ یہ کہ جہاد بالسيف اور علم کے میدان کو عملی طور پر ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ امت کے ایک طبقہ کی ذمہ داری یہ قرار پائی کہ وہ سیاسی جہاد کے شعبوں میں مشغول ہو۔ امت کے دوسرے طبقہ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ علم کے شعبوں کو سنبھالے اور اپنے آپ کو پوری طرح اس میں وقف کرے۔ کیوں کہ وقف کیے بغیر کا حقہ اس کے تقاضے پورے نہیں کیے جا سکتے۔ مفسرین نے مزید وضاحت کی ہے کہ علم کے شعبوں میں محنت کے لیے ٹھہرنا کوئی تخلف کی بات نہیں ہے ۔ یہ علم کی طاقت سے جہاد کرنا ہے جو معروف ہتھیاروں کے ذریعہ جہاد کرنے سے زیادہ اہم ہے : فأمروا أن ينفر من كل فرقة منهم طائفة پس لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ہر گروہ میں سے ایک جماعت الى الجهاد ويبقى سائرهم يتفقهون حتى جہاد کے لیے نکلے اور بقیہ لوگ مدینہ میں رہ کر دین لا ينقطعوا عن التفقه الذي هو الجهاد سیکھیں تاکہ وہ علم دین سے کٹ نہ جائیں جو کہ زیادہ الاكبر - إذا الجهاد بالحجاج اعظم أثراً من بڑا جہاد ہے۔ کیوں کہ دلائل کے ذریعہ جہاد کی تاثیر الجهاد بالنضال (تفسیر انسفی ، مدارک التنزیل) ہتھیاروں کے ذریعہ جہاد سے بہت زیادہ ہے۔ اس اصول کا مطلب مذہب اور سیاست کی تفریق نہیں ہے۔ بلکہ خود اہل مذہب کے دو طبقوں کے دائرۂ عمل کی تقسیم ہے۔ یہ تقسیم شریعت کے مزاج کے عین مطابق ہے۔ اسلام میں عورت اور مرد دونوں کا دین ایک ہے۔ دونوں یکساں طور پر دین کے مخاطب ہیں۔ مگر عملی اعتبار سے دونوں کے دائرۂ کار کو ایک دوسرے سے الگ رکھا گیا ہے۔ عورت کے ذمہ نسل انسانی کی تربیت ہے، اور مرد کے ذمہ عمل انسانی کا انتظام۔ اسی طرح خود مردوں میں بھی مختلف تقسیمات ہیں۔ اس میں سے ایک تقسیم یہ ہے کہ اسلام میں اہل علم اور اہل سیاست کے دائرۂ کار کو، بنیادی طور پر، الگ کر دیا گیا ہے۔ اہل علم کا کام یہ ہے کہ وہ شعور انسانی کے نگران بنیں ۔ وہ ہر دور میں شعور انسانی کی تشکیل کے لیے معلم کا کردار ادا کریں تاکہ عقلیت بشری یا شاکلہ انسانی فطرت کی راہ سے بھٹکنے نہ پائے۔ جہاں تک عملی سیاست کا تعلق ہے۔ اس کے لیے مخصوص صلاحیتیں درکار ہیں۔ ہر آدمی عملی سیاست کی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کر سکتا۔ انسانی صلاحیتوں کا یہی فرق ہے جس کی بنا پر رسول اللہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page